www.capitalbusiness.pk is the premier website for business engaging resource content focused on helping business owners and decision-makers launch, build, and expand their businesses.Our mission is to help people grow their businesses, plain and simple.
Capitalbusiess is guaranteed solution for your business success to bring clients to your doorstep.
Contact us now for free consultation
03335850005
info@capitalbusiness.pk
www.capitalbusiness.pk
Capital Business
شادی یابربادی؟؟؟
تقریباً آٹھ مہینے پہلے کی بات ہے، میں گلبرگ گرین نامی سوسائٹی کے ایک پانچ کنال کے فارم ہاؤس میں آتا جاتا تھا۔ وہاں ایک ریٹائرڈ فوجی بطور چوکیدار ڈیوٹی دیتا تھا۔
عمر تقریباً پچپن کے قریب ہوگی۔ دل کا مریض بھی تھا مگر پھر بھی بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کرتا، کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ۔
اس کی زندگی بڑی سادہ اور مشکلوں بھری تھی۔ گھر سے دور رہتا، تنخواہ محدود تھی، مگر ذمہ داریاں بہت زیادہ تھیں۔ اکثر دیکھا کہ اپنے کھانے پینے میں بھی بچت کرتا۔ میں کہتا کہ کچھ اچھا کھا لیا کرو، تو جواب دیتا:
“گھر میں ضرورتیں بہت ہیں، پیسے بچانے ہیں۔”
اس کی باتیں سن کر دل بہت متاثر ہوتا تھا کہ ایک شخص اپنی صحت، آرام اور خوشیوں کو قربان کر کے صرف گھر کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پھر ایک دن وہ ڈیوٹی پر نہیں آیا۔ پتا چلا کہ وہ چھٹی پر گیا ہوا ہے۔ یہ چھٹی بھی معمولی نہیں تھی، تقریباً بیس پچیس دن بعد واپس آیا۔
جب میں نے اسے دیکھا تو وہ بہت خوش تھا۔ مسکراتے ہوئے ملا۔ میں نے پوچھا:
“خیر ہے؟ چھٹی کیسے گزری؟ طبیعت تو ٹھیک رہی؟”
وہ فخر سے بولا:
“بیٹے کی شادی کر کے آیا ہوں۔”
میں نے دل سے مبارک دی اور پوچھا: “کیسی رہی شادی؟”
تو وہ بڑے جوش میں بتانے لگا:
“بائیس، تئیس لاکھ روپے خرچہ ہو گیا۔ پانچ دیہات سے لوگ بلائے تھے، تقریباً ہزار بارہ سو افراد نے کھانا کھایا۔ تین دن تک ہمارے گھر میں دیگیں چلتیں رہیں۔ حلوہ، قورمہ، چاول—سب کچھ بہت اچھا بنایا تھا۔”
وہ خوشی سے ہر چیز کی تفصیل بتا رہا تھا، جیسے یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہو۔
لیکن میرے ذہن میں ایک سوال بار بار آ رہا تھا۔ یہ وہی آدمی تھا جس کے پاس نہ کوئی خاص تعلیم تھی، نہ کوئی ہنر، نہ بیٹے کا مستقل روزگار۔ اس کی عمر بھی ڈھل رہی تھی اور صحت بھی کمزور تھی۔ اس کے پاس جو کچھ تھا، وہ اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی تھی—تقریباً بیس پچیس سال کی محنت کا حاصل۔
اگر وہ چاہتا تو اس پیسے سے اپنے بیٹے کے لیے کوئی چھوٹا سا کاروبار شروع کر سکتا تھا، کوئی زمین لے سکتا تھا، یا اسے کوئی ہنر سکھا سکتا تھا تاکہ اس کا مستقبل محفوظ ہو جاتا۔ مگر اس نے وہ سب کچھ صرف تین دن کی شادی کی شان و شوکت میں لگا دیا۔
اب سوال یہ نہیں کہ شادی ہوئی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے واقعی اپنے بچوں کا مستقبل بنایا یا صرف اپنی انا اور رسم و رواج کو پورا کیا؟
کیا یہ شادی تھی یا بربادی؟
یہ واقعہ آج بھی میرے ذہن میں ایک سبق بن کر موجود ہے کہ
اصل کامیابی دکھاوے میں نہیں، بلکہ سوچ سمجھ کر کیے گئے فیصلوں میں ہوتی ہے۔
ضروری درخواست
گروپ ممبرز سے درخواست ہے کہ اس واقعہ کو ضرور پڑھیں۔اور کاپی کرکے دوستوں کو شئیر بھی کریں۔تاکہ شادیوں پر فضول اخراجات اور رسموں کا خاتمی کرنے میں کچھ کامیابی حاصل ہو
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Capital Business
best
4 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Capital Business
اسلام آباد کا بدلتا منظرنامہ: شہری آبادی کا عروج اور مضافات کا جمود
گزشتہ ایک دہائی اسلام آباد کے پراپرٹی سیکٹر کے لیے کسی "رولر کوسٹر" سے کم ثابت نہیں ہوئی۔ اگر ہم پچھلے دس سالوں کا جائزہ لیں تو وفاقی دارالحکومت میں زمین کی قیمتوں اور کرایوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن اس اضافے کی کہانی ایک جیسی نہیں ہے۔
شہری آبادی: ترقی کی معراج
اسلام آباد کے وہ سیکٹرز اور آبادیاں جو پہلے سے آباد ہیں یا جہاں زندگی کی تمام سہولیات میسر ہیں، وہاں کے ریٹس آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ ای الیون (E-11)، ایف الیون (F-11)، جی الیون (G-11) اور بحریہ ٹاؤن یا ڈی ایچ اے جیسے آباد علاقوں میں نہ صرف پلاٹوں اور گھروں کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، بلکہ کرایوں میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
بڑھتی ہوئی طلب: شہر میں رہائش کے خواہشمند افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ۔
سہولیات کی دستیابی: گیس، بجلی، پانی اور سیکیورٹی جیسے عوامل نے ان علاقوں کو محفوظ سرمایہ کاری بنا دیا ہے۔
فوری منافع: آباد علاقوں میں گھر بنا کر کرایہ وصول کرنا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔
غیر آباد اور دور دراز زمینیں: ایک خاموش بحران
اس کے برعکس، شہر سے دور واقع نئی ہاؤسنگ اسکیمیں اور وہ علاقے جہاں تاحال آبادی نہیں پہنچی، وہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں جو زمینیں صرف "فائلوں" کی حد تک تھیں یا جہاں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر تھا، وہاں سرمایہ کاروں کو بڑے نقصان کا سامنا ہے۔
بہت سی ایسی اسکیمیں جو دس سال پہلے "سنہری مستقبل" کے خواب دکھا کر فروخت کی گئی تھیں، آج وہاں خریدار غائب ہیں اور قیمتیں خرید سے بھی نیچے گر چکی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اب سرمایہ کار محض "ہوا" میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے پراپرٹی کی پوزیشن اور فوری قبضے کو ترجیح دے رہا ہے۔
نتیجہ
اسلام آباد کا رئیل اسٹیٹ اب محض زمین کے ٹکڑے کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ "محل وقوع اور آبادی" کا کھیل بن چکا ہے۔ آج کے دور میں فائدہ صرف اسی کا ہے جس کی زمین شہر کی رونقوں کا حصہ ہے، جبکہ دور دراز کے خواب دیکھنے والے فی الحال انتظار اور نقصان کی زد میں ہیں۔
4 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Capital Business
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Capital Business
اسلام علیکم
اج میں آپ سب سے ایک بہترین ویب سائٹ کے حوالے معلومات شئیر کررہاہوں۔
ایک ویب سائٹ ہے
emap.k
اس ویب سائٹ پر اپ کو پورے پاکستان کے بڑے شہروں کی تمام رجسٹرڈاور قابل بھروسہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نقشہ جات اور Map ملیں گے۔
اس ویب سائٹ کی یہ سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نقشہ جات تازہ ترین اپ ڈیٹس کے ساتھ ملتے ہیں۔
کون سی ہاؤسنگ سوسائٹی کہاں ہے۔اس کے پاس کتنا ایریا ہے۔کتنے رہائشی اور کمرشل پلاٹس ہیں۔روڈ نیٹ ورک اور دیگر تمام سہولیات کی تفصیل بھی آپ
Emap.pk
کی ویب سائٹ پر جاکر دیکھ سکتے ہیں۔
اس ویب سائٹ نے عام شہریوں۔انوسٹرز۔پراپرٹی بلڈرز پراپرٹی کنسلٹنٹ اور آرکیٹیکٹ وغیرہ کی بڑی مشکل حل کرکے اسے آسان بنادیا ہے۔
آپ بھی اگر کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نقشہ دیکھناچاہتے ہیں تو Emap.pk وزٹ کیجئے۔
🗺️🇵🇰 Emap.pk – پاکستان کا سب سے جدید آن لائن نقشہ پلیٹ فارم!
اب لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، راولپنڈی سمیت درجنوں شہروں کی مشہور سوسائٹیز کے نقشے صرف ایک کلک پر!
🏙️ مشہور شہر:
📍 لاہور، اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد، ملتان، پشاور، راولپنڈی
🏡 مشہور سوسائٹیز:
🏠 بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے، گلبرگ گرین، کیپیٹل اسمارٹ سٹی، نیو سٹی، پارک ویو سٹی، ٹاپ سٹی، بلیو ورلڈ سٹی، ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی
✅ پلاٹس، بلاکس، سڑکیں، زونز، اور بلڈرز کی مکمل تفصیلات
✅ اپنی پراپرٹی تلاش کریں آسان نقشہ کے ذریعے!
🌐 ابھی وزٹ کریں: www.Emap.pk
📍 پاکستان کا ہر نقشہ – اب آپ کی انگلیوں پر!
#EmapPK #PakMaps #HousingSocieties #OnlineMap #PropertySearch #BahriaTown #DHA #GulbergGreen #BlueWorldCity #CapitalSmartCity #TopCity #PakistanRealEstate #SocietyMap
1 year ago (edited) | [YT] | 0
View 0 replies
Capital Business
صرف 1 ایکڑ پر اُگائے گئے 30 فُٹ عمودی فارم سے 1.8 ملیئن کلوگرام سٹرابری سالانہ پیدا کرنے والا یہ فارم رِچمنڈ ورجینیئا امریکہ میں 2025 میں کُھل رہا ہے۔
یہ طریقہ نہ صرف زرعی زمین کا استعمال 97% کم کردیتا ہے بلکہ پانی کا استعمال بھی 90 % کم ہوجاتا ہے اور کھاد تو بالکل ختم۔
اس طرح کے عمودی فارم میں کنٹرول درجہ حرارت پر تقریباً ہر قسم کی فصل کاشت کی جاسکتی ہے۔
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Capital Business
2 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Capital Business
سات مہینے پہلے عمران ریاض نے لندن پلان کے بارے میں بتادیا تھا
2 years ago | [YT] | 0
View 0 replies