🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️ > *تبلیغی جماعت میں اختلافات: مفتی تقی عثمانی صاحب کا مؤقف اور مولانا سعد کاندھلوی کی شاطرانہ حکمت عملی* 🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️
تبلیغی جماعت ایک عالمگیر تحریک ہے، جس کا مقصد امت مسلمہ میں دینی بیداری اور دعوت کا احیاء ہے اس جماعت نے اپنی سادہ دعوتی روش کی بدولت دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی لیکن جیسے جیسے جماعت کی وسعت بڑھتی گئی، اندرونی اختلافات نے بھی جنم لیا خاص طور پر مولانا سعد کاندھلوی اور شوریٰ کے درمیان اختلافات نے جماعت کے تشخص کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا۔
* *مفتی تقی عثمانی صاحب کی نصیحت اور ان کا مقام* مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم جیسی علمی قدآور شخصیت کی دین اور علم پر گہری نظر اور ان کی فہم و فراست سے امت ہمیشہ مستفید ہوئی ہے مولانا سعد کاندھلوی سے ملاقات کے دوران مفتی صاحب نے چند نہایت اہم نکات اٹھائے:
1. **غلو اور تجاوزات کا اعتراف**: مفتی صاحب نے نہایت واضح انداز میں مولانا سعد کو باور کرایا کہ ان کے کام میں کچھ تجاوزات اور غلو پائے جاتے ہیں، جنہیں قبول کرنا ضروری ہے یہ ایک نہایت حکیمانہ اور محتاط تنقید تھی، جس میں اصلاح کا پہلو بھی موجود تھا۔
2. *صحیح علم کی روشنی میں دعوت کا کام* مفتی صاحب نے مولانا سعد کو نصیحت کی کہ انہیں اپنے کام کو صحیح علم کی روشنی میں سرانجام دینا چاہیے تاکہ غلط فہمیوں اور گمراہیوں کا سدباب ہو۔
3. *تنقید کو کھلے دل سے قبول کرنے کی صلاحیت* مفتی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ مولانا سعد کے کام میں غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، انہیں اپنا مخالف نہ سمجھا جائے بلکہ ان کی باتوں کو دل کھول کر سنا جائے اور اس پر غور کیا جائے۔
*تبلیغ کے اختلاف کی نوعیت: مسالک اربعہ کی مثال کا جائزہ* تاہم، ایک بات جو خاصی بحث کا موضوع بنی، وہ یہ تھی کہ مفتی صاحب نے تبلیغی جماعت میں پائے جانے والے اختلافات کو فقہ کے چار مسالک (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے اختلافات سے تشبیہ دی یہ تشبیہ بظاہر ایک مفاہمتی اور مصالحتی قدم تھا، تاکہ اختلافات کو ایک حد میں رکھا جا سکے مگر حقیقت میں تبلیغی جماعت کے موجودہ اختلافات کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔
فقہ کے چار مسالک کا اختلاف *اجتہادی* اور *فروعی* مسائل پر مبنی ہے۔ یہ اختلافات دینی اصولوں اور عقائد میں نہیں بلکہ فقہی جزئیات میں ہیں۔ ہر مسلک کے پیروکار دوسرے مسلک کے پیروکاروں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے اجتہاد کو تسلیم کرتے ہیں ان اختلافات نے امت میں کبھی فتنہ و فساد کا باعث نہیں بنے۔
لیکن مولانا سعد کاندھلوی اور شوریٰ کے مابین جو اختلافات ہیں، وہ اصولی اور *عقائد* کے مسائل پر ہیں مولانا سعد پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جیسے انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں نازیبا کلمات کا استعمال، جسے کسی بھی طرح فروعی یا اجتہادی اختلافات کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہی بات دارالعلوم دیوبند کے متفقہ موقف والے فتوے میں بھی واضح کی گئی ہے، جس میں مولانا سعد کے افکار کو اہل سنت والجماعت سے ہٹ کر ایک نئی جماعت کی تشکیل کی کوشش قرار دیا گیا ہے دارالعلوم دیوبند نے واضح طور پر کہا ہے کہ مولانا سعد فکری انحراف کا شکار ہو چکے ہیں اور ان کے نظریات گمراہی کی طرف لے جا رہے ہیں فتوے میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ آگے چل کر یہ جماعت ایک فرقہ ضالہ بن سکتی ہے، جو امت کے لیے مزید فتنوں کا باعث ہو سکتی ہے یہ اختلاف نہ صرف اصول اور عقائد کا ہے بلکہ تبلیغی جماعت کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ مولانا سعد کے بعض بیانات نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے احترام کے منافی ہیں، جیسا کہ: - صحابہ کرام کو نکما کہنا - صحابہ کے اعمال سے غلط استدلالات کرنا - مرکز چھوڑنے کو ارتداد سے تعبیر کرنا - بنگلے والی مسجد کو حرمین شریفین کے بعد اعلیٰ مقام دینا - تبلیغی جماعت کے چھ نمبرات کو پورا دین قرار دینا اور اسے نہ ماننے والوں کو گدھا کہنا
یہ تمام باتیں بنیادی عقائد و اصول میں اختلاف کا سبب ہیں اور انہیں فقہی مسالک کے اختلافات سے تشبیہ دینا علمی اور منطقی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔
*مولانا سعد کا مفتی صاحب کی تائید کا غلط استعمال* حالیہ دنوں میں مولانا سعد کاندھلوی کی طرف سے مفتی تقی عثمانی صاحب کی ملاقات اور ان کے تائیدی کلمات کو ریکارڈ کر کے پیش کرنا ایک نہایت شاطرانہ چال تھی مولانا سعد کی یہ کوشش کہ مفتی صاحب کے کلمات کو اس طرح پیش کیا جائے جیسے وہ ان کے کام کی مکمل تائید کر رہے ہیں، درحقیقت ایک سیاسی چال ہے جس کا مقصد اپنے موقف کو تقویت دینا ہے۔ یہ بھی ایک قابلِ غور بات ہے کہ حال ہی میں ایک ملک کے علماء نے مولانا سعد کے خلاف ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا، جس نے مولانا سعد کی پوزیشن اور ان کے موقف کو مزید کمزور کر دیا۔
مولانا سعد کی جانب سے ہر بڑے اجتماع کے موقع پر ایسی چالبازیاں اور تائیدی کلمات کا استعمال ایک طویل مدت سے چل رہا ہے تاکہ ان کے کام کی صحیح حیثیت کو مسخ کیا جا سکے اور عوام کے سامنے اپنے موقف کو درست ثابت کیا جا سکے۔
*تبلیغ کے صحیح خطوط پر احیاء کی ضرورت* مفتی تقی عثمانی صاحب کا مقام اور ان کی علمی خدمات کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہیں ان کے ارشادات ہمیشہ اصلاح کی نیت سے ہوتے ہیں۔ تاہم، مولانا سعد کاندھلوی کی طرف سے ان کے الفاظ کا غلط استعمال نہایت افسوسناک ہے۔
تبلیغی جماعت کو اس وقت سخت اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے، اور اس نازک وقت میں ضروری ہے کہ علماء کرام اس تحریک کی اصل روح کو محفوظ رکھیں اور مولانا سعد کی طرف سے پھیلائی جانے والی فکری گمراہیوں سے امت کو بچائیں اس کے لیے تبلیغ کو دوبارہ صحیح علمی اور شرعی خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے تاکہ یہ تحریک اپنی اصل روح کے ساتھ امت مسلمہ کی خدمت کر سکے۔ فقط مسعود احمد قاسمی دھولیہ *9309578195* 10/10/24ء
*اپنی پیرانہ سالی کے باوجود* *حضرت مولانا ابراہیم صاحب دیولہ دامت فیوضہم* *ہمہ تن گوش ہوکر تعلیم میں بیٹھے ہوے ہیں اللہ پاک حضرت کی عمر میں برکت عطاء فرماے۔آمین* *بمقام ۔خانقاہ محمودیہ جمبوسر گجرات*
گٹار کا شوقین نوجوان، جو تبلیغ والوں کے حسن سلوک سے متأثر ہوا ، تبلیغ کے لئے گیا تو بھی گٹار اور پینٹ شرٹ پہن کر گیا ، واپس آیا، تو دنیا بدل چکی تھی، لمبی قمیص ٹخنوں تک آرہی تھی۔۔ پھر دنیا نے اسے مولانا فہیم خان مقیم و مدرس مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز رائیونڈ کے نام سے جانا ۔ سالوں تک حاجی عبدالوہاب صاحب کے سفرو حضر کے ساتھی رہے۔ آج انکا انتقال ہوچکا 😭😭😭
SAYYED KHUZAIMA 17
https://youtu.be/IcpMWw5R4zw?si=_oULp...
🎙️- *Hazrat Shaykh Molana Ibrahim Shb Devla D.B*
*Bayan In All India Mashwara*
*28-10 (Tuesday)*
*After Fajar Salah*
*Duration- 1:01:05*
*Jamiatul Qiraat*
*Kaplehta, Surat*
*Gujarat, India*
3 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
SAYYED KHUZAIMA 17
10 months ago | [YT] | 17
View 0 replies
SAYYED KHUZAIMA 17
11 months ago | [YT] | 19
View 0 replies
SAYYED KHUZAIMA 17
Raiwind alami ijtema
1 year ago | [YT] | 40
View 7 replies
SAYYED KHUZAIMA 17
1 year ago | [YT] | 108
View 0 replies
SAYYED KHUZAIMA 17
🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️
> *تبلیغی جماعت میں اختلافات: مفتی تقی عثمانی صاحب کا مؤقف اور مولانا سعد کاندھلوی کی شاطرانہ حکمت عملی*
🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️
تبلیغی جماعت ایک عالمگیر تحریک ہے، جس کا مقصد امت مسلمہ میں دینی بیداری اور دعوت کا احیاء ہے اس جماعت نے اپنی سادہ دعوتی روش کی بدولت دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی لیکن جیسے جیسے جماعت کی وسعت بڑھتی گئی، اندرونی اختلافات نے بھی جنم لیا خاص طور پر مولانا سعد کاندھلوی اور شوریٰ کے درمیان اختلافات نے جماعت کے تشخص کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا۔
* *مفتی تقی عثمانی صاحب کی نصیحت اور ان کا مقام*
مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم جیسی علمی قدآور شخصیت کی دین اور علم پر گہری نظر اور ان کی فہم و فراست سے امت ہمیشہ مستفید ہوئی ہے مولانا سعد کاندھلوی سے ملاقات کے دوران مفتی صاحب نے چند نہایت اہم نکات اٹھائے:
1. **غلو اور تجاوزات کا اعتراف**: مفتی صاحب نے نہایت واضح انداز میں مولانا سعد کو باور کرایا کہ ان کے کام میں کچھ تجاوزات اور غلو پائے جاتے ہیں، جنہیں قبول کرنا ضروری ہے یہ ایک نہایت حکیمانہ اور محتاط تنقید تھی، جس میں اصلاح کا پہلو بھی موجود تھا۔
2. *صحیح علم کی روشنی میں دعوت کا کام*
مفتی صاحب نے مولانا سعد کو نصیحت کی کہ انہیں اپنے کام کو صحیح علم کی روشنی میں سرانجام دینا چاہیے تاکہ غلط فہمیوں اور گمراہیوں کا سدباب ہو۔
3. *تنقید کو کھلے دل سے قبول کرنے کی صلاحیت*
مفتی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ مولانا سعد کے کام میں غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، انہیں اپنا مخالف نہ سمجھا جائے بلکہ ان کی باتوں کو دل کھول کر سنا جائے اور اس پر غور کیا جائے۔
*تبلیغ کے اختلاف کی نوعیت: مسالک اربعہ کی مثال کا جائزہ*
تاہم، ایک بات جو خاصی بحث کا موضوع بنی، وہ یہ تھی کہ مفتی صاحب نے تبلیغی جماعت میں پائے جانے والے اختلافات کو فقہ کے چار مسالک (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے اختلافات سے تشبیہ دی یہ تشبیہ بظاہر ایک مفاہمتی اور مصالحتی قدم تھا، تاکہ اختلافات کو ایک حد میں رکھا جا سکے مگر حقیقت میں تبلیغی جماعت کے موجودہ اختلافات کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔
فقہ کے چار مسالک کا اختلاف *اجتہادی* اور *فروعی* مسائل پر مبنی ہے۔ یہ اختلافات دینی اصولوں اور عقائد میں نہیں بلکہ فقہی جزئیات میں ہیں۔ ہر مسلک کے پیروکار دوسرے مسلک کے پیروکاروں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے اجتہاد کو تسلیم کرتے ہیں ان اختلافات نے امت میں کبھی فتنہ و فساد کا باعث نہیں بنے۔
لیکن مولانا سعد کاندھلوی اور شوریٰ کے مابین جو اختلافات ہیں، وہ اصولی اور *عقائد* کے مسائل پر ہیں مولانا سعد پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جیسے انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں نازیبا کلمات کا استعمال، جسے کسی بھی طرح فروعی یا اجتہادی اختلافات کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔
یہی بات دارالعلوم دیوبند کے متفقہ موقف والے فتوے میں بھی واضح کی گئی ہے، جس میں مولانا سعد کے افکار کو اہل سنت والجماعت سے ہٹ کر ایک نئی جماعت کی تشکیل کی کوشش قرار دیا گیا ہے دارالعلوم دیوبند نے واضح طور پر کہا ہے کہ مولانا سعد فکری انحراف کا شکار ہو چکے ہیں اور ان کے نظریات گمراہی کی طرف لے جا رہے ہیں فتوے میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ آگے چل کر یہ جماعت ایک فرقہ ضالہ بن سکتی ہے، جو امت کے لیے مزید فتنوں کا باعث ہو سکتی ہے یہ اختلاف نہ صرف اصول اور عقائد کا ہے بلکہ تبلیغی جماعت کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔
مولانا سعد کے بعض بیانات نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے احترام کے منافی ہیں، جیسا کہ:
- صحابہ کرام کو نکما کہنا
- صحابہ کے اعمال سے غلط استدلالات کرنا
- مرکز چھوڑنے کو ارتداد سے تعبیر کرنا
- بنگلے والی مسجد کو حرمین شریفین کے بعد اعلیٰ مقام دینا
- تبلیغی جماعت کے چھ نمبرات کو پورا دین قرار دینا اور اسے نہ ماننے والوں کو گدھا کہنا
یہ تمام باتیں بنیادی عقائد و اصول میں اختلاف کا سبب ہیں اور انہیں فقہی مسالک کے اختلافات سے تشبیہ دینا علمی اور منطقی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔
*مولانا سعد کا مفتی صاحب کی تائید کا غلط استعمال*
حالیہ دنوں میں مولانا سعد کاندھلوی کی طرف سے مفتی تقی عثمانی صاحب کی ملاقات اور ان کے تائیدی کلمات کو ریکارڈ کر کے پیش کرنا ایک نہایت شاطرانہ چال تھی مولانا سعد کی یہ کوشش کہ مفتی صاحب کے کلمات کو اس طرح پیش کیا جائے جیسے وہ ان کے کام کی مکمل تائید کر رہے ہیں، درحقیقت ایک سیاسی چال ہے جس کا مقصد اپنے موقف کو تقویت دینا ہے۔
یہ بھی ایک قابلِ غور بات ہے کہ حال ہی میں ایک ملک کے علماء نے مولانا سعد کے خلاف ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا، جس نے مولانا سعد کی پوزیشن اور ان کے موقف کو مزید کمزور کر دیا۔
مولانا سعد کی جانب سے ہر بڑے اجتماع کے موقع پر ایسی چالبازیاں اور تائیدی کلمات کا استعمال ایک طویل مدت سے چل رہا ہے تاکہ ان کے کام کی صحیح حیثیت کو مسخ کیا جا سکے اور عوام کے سامنے اپنے موقف کو درست ثابت کیا جا سکے۔
*تبلیغ کے صحیح خطوط پر احیاء کی ضرورت*
مفتی تقی عثمانی صاحب کا مقام اور ان کی علمی خدمات کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہیں ان کے ارشادات ہمیشہ اصلاح کی نیت سے ہوتے ہیں۔ تاہم، مولانا سعد کاندھلوی کی طرف سے ان کے الفاظ کا غلط استعمال نہایت افسوسناک ہے۔
تبلیغی جماعت کو اس وقت سخت اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے، اور اس نازک وقت میں ضروری ہے کہ علماء کرام اس تحریک کی اصل روح کو محفوظ رکھیں اور مولانا سعد کی طرف سے پھیلائی جانے والی فکری گمراہیوں سے امت کو بچائیں اس کے لیے تبلیغ کو دوبارہ صحیح علمی اور شرعی خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے تاکہ یہ تحریک اپنی اصل روح کے ساتھ امت مسلمہ کی خدمت کر سکے۔ فقط مسعود احمد قاسمی دھولیہ *9309578195* 10/10/24ء
1 year ago | [YT] | 20
View 15 replies
SAYYED KHUZAIMA 17
*اپنی پیرانہ سالی کے باوجود*
*حضرت مولانا ابراہیم صاحب دیولہ دامت فیوضہم*
*ہمہ تن گوش ہوکر تعلیم میں بیٹھے ہوے ہیں اللہ پاک حضرت کی عمر میں برکت عطاء فرماے۔آمین*
*بمقام ۔خانقاہ محمودیہ جمبوسر گجرات*
1 year ago | [YT] | 94
View 3 replies
SAYYED KHUZAIMA 17
Raiwind old worker jod maulana Ismail Godhra Full Bayan
https://youtu.be/rBxVvr07rFc?si=IJv0S...
1 year ago | [YT] | 6
View 0 replies
SAYYED KHUZAIMA 17
2 years ago | [YT] | 20
View 0 replies
SAYYED KHUZAIMA 17
گٹار کا شوقین نوجوان، جو تبلیغ والوں کے حسن سلوک سے متأثر ہوا ، تبلیغ کے لئے گیا تو بھی گٹار اور پینٹ شرٹ پہن کر گیا ، واپس آیا، تو دنیا بدل چکی تھی، لمبی قمیص ٹخنوں تک آرہی تھی۔۔
پھر دنیا نے اسے مولانا فہیم خان مقیم و مدرس مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز رائیونڈ کے نام سے جانا ۔ سالوں تک حاجی عبدالوہاب صاحب کے سفرو حضر کے ساتھی رہے۔ آج انکا انتقال ہوچکا 😭😭😭
2 years ago | [YT] | 62
View 7 replies
Load more