Welcome to Tawheed TV, where I share Javed Ahmed Ghamidi's insights on Islam. May these videos deepen your understanding and bring you closer to the truth. Subscribe for thoughtful discussions and divine guidance.
For any inquiries, information, or issues, feel free to contact me at⤵️
📧 1tawheedtvofficial@gmail.com


Tawheed Tv

""انبیاے اولیا""
(تصوف اور ختمِ نبوت)

محمد حسن الیاس

فکرِ فراہی کے نزدیک ختمِ نبوت کا واضح اور قطعی مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منصبِ نبوت اپنی ہر صورت، ہر نسبت اور ہر امکان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا؛ نہ شریعت کے ساتھ، نہ بغیر شریعت کے؛ نہ مستقل، نہ تابع؛ نہ ظاہری، نہ باطنی؛ نہ ظلی، نہ بروزی، نہ حکمی؛ نہ نبیِ وقتی، نہ نبیِ ولی۔

قرآن مجید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا، اور آپ نے فرمایا: لا نبي بعدي، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ایک دوسری روایت میں آپ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ نبوت میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی، سوائے مبشرات، یعنی اچھے خواب کے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آپ کے بعد وحی، الہامِ معصوم، مشاہدۂ غیب، دینی حجیت اور منصبِ نبوت سے وابستہ ہر اختصاص ختم ہو چکا ہے۔

تصوف کی روایت اس کے برخلاف ختمِ نبوت کے اس مفہوم کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس کے نزدیک خاتمہ صرف نبوتِ تشریعی کا ہوا ہے؛ یعنی اب کوئی شخص نئی شریعت لے کر نہیں آ سکتا۔ لیکن منصبِ نبوت کے کمالات، علوم، باطنی حجیت اور روحانی اختیارات اب بھی خاص اکابر کو حاصل ہو سکتے ہیں۔ بلکہ بعض مقامات پر ان کے علم کو شریعت لانے والے انبیا کے علم سے بھی ایک خاص جہت میں زائد اور ممتاز قرار دیا جاتا ہے۔

یہی حقیقت کبھی نبوتِ عامہ کہلاتی ہے، کبھی وحیِ باطن، کبھی امینِ الہام، کبھی کشف و مشاہدۂ غیب، کبھی عصمت و حفاظت، کبھی تصرف، اور کبھی انبیاے اولیا۔ گویا لفظ بدل جاتا ہے، مگر نبوت سے وابستہ اوصاف، علوم، حجیت اور اختیارات اپنی حقیقت میں باقی رہتے ہیں۔

اس تعبیر میں ایک شخص کے لیے غیب سے علم پانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے؛ پھر اس علم کو باطل کی آمیزش سے پاک، حق کا معیار، اور کائنات میں تصرف کا ذریعہ مانا جاتا ہے۔ یہ عام بندگی کا مقام نہیں رہتا؛ یہ منصبِ نبوت سے متعلق خصوصیات کو دوسرے ناموں سے باقی رکھنے کی تعبیر بن جاتا ہے۔

تصوف کے علما اپنی اس بات کو کیسے بیان کرتے ہیں اور اس کے لیے کیا تعبیرات اختیار کرتے ہیں، اس کا ایک نہایت نمائندہ اقتباس ابنِ عربی کی الفتوحات المکیہ سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ذیل کا ترجمہ اصل عربی عبارت کا براہِ راست ترجمہ ہے؛ اس میں کوئی توضیحی لفظ، کوئی اضافی اصطلاح یا کوئی محذوف معنی اپنی طرف سے شامل نہیں کیا گیا۔ نبوتِ عامہ، اکابرِ رجال، اور انبیاے اولیا جیسی تعبیرات اسی عبارت کا ترجمہ ہیں، بعد کی تشریح نہیں۔

ابنِ عربی لکھتے ہیں:

’’رہی نبوت عامہ تو اِس کے اجزا لامحدود بھی ہیں اور بے شمار بھی، اِس لیے کہ یہ غیر موقت ہوتی ہے اور دنیا و آخرت میں ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جسے ہمارے اہلِ طریق نے نظر انداز کیا ہے۔ تاہم مجھے نہیں معلوم کہ اُنھوں نے یہ قصداً کیا ہے یا اللہ نے اُن کو اِسے بیان کرنے کی توفیق ہی نہیں دی یا یہ صورت ہوئی کہ اُنھوں نے اِس کا ذکر تو کیا تھا، مگر اُن کا یہ تذکرہ ہم تک پہنچ نہیں پایا۔ بہرحال اصل بات اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

مجھ سے ابوالبدر التماشکی البغدادی نے شیخ شبیر کی روایت بیان کی، جو باب الازخ میں ہمارے بزرگوں میں سے ہیں، اُنھوں نے امام العصر شیخ عبدالقادر جیلانی سے روایت کیا۔ وہ فرماتے تھے: ’’اے گروہِ انبیا، تمھیں نبی کا لقب دیا گیا اور ہمیں وہ کچھ دیا گیا جو تمھیں نہیں دیا گیا۔‘‘

اب جہاں تک شیخ کی اِس بات کا تعلق ہے کہ ’’تمھیں نبی کا لقب دیا گیا‘‘ تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیے لفظ ’نبی‘ کا اطلاق ممنوع ٹھیرایا گیا ہے، اور یہ اِس کے باوجود ممنوع ہے کہ ہمارے اکابرِ رجال میں نبوت عامہ جاری ہے۔

باقی رہا شیخ کی بات کا یہ حصہ کہ ’’ہمیں وہ کچھ دیا گیا جو تمھیں نہیں دیا گیا‘‘ تو یہ ٹھیک وہی مدعا ہے جو خضر علیہ السلام کی اُس بات کا تھا جو اُنھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ ’’اے موسیٰ، میرے پاس وہ علم ہے جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے، تم اُس کو نہیں جانتے۔‘‘

اور یہ خضر وہ ہستی ہیں کہ جن کی عدالت اور جن کے تقدمِ علمی کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود دی اور اپنے کلیم، برگزیدہ و مقرب موسیٰ علیہ السلام کو اِس مشقت میں ڈالا کہ وہ اُنھیں تلاش کریں، جب کہ معلوم ہے کہ تمام علما یہی راے رکھتے ہیں کہ موسیٰ خضر سے افضل ہیں۔

ایک دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے ’’اے گروہِ انبیا‘‘ میں لفظ ’انبیا‘ سے نبوت عامہ کے حاملین، انبیاے اولیا، مراد لیے ہیں تو پھر وہ اپنے اِس قول میں اِس بات کی تصریح کر رہے ہیں کہ اللہ نے اُن کو، یعنی شیخ عبدالقادر جیلانی کو، جو علم عطا فرمایا ہے، وہ نبوت عامہ کے دوسرے حاملین کو نہیں دیا گیا۔ اِس لیے کہ اللہ نے اِن میں سے کسی کو افضل اور کسی کو مفضول تو بنایا ہی ہے۔ سو اِس طرح کی بات پر تو کسی کو بھی تعجب نہیں ہو گا۔‘‘

یہ اقتباس تین باتوں کو بالکل واضح کر دیتا ہے۔

پہلی بات یہ کہ ابنِ عربی کے نزدیک نبوتِ
ختم نہیں ہوئی۔ وہ اسے جاری، غیر موقت، دنیا و آخرت میں باقی، لامحدود اور بے شمار اجزا والی حقیقت قرار دیتے ہیں۔ یہ کشف یا کرامت کی عام بحث نہیں، بلکہ نبوت ہی کی ایک مستقل قسم کے جاری رہنے کا اثبات ہے۔

دوسری بات یہ کہ ابنِ عربی کے نزدیک یہ نبوتِ عامہ اکابرِ رجال میں جاری ہے۔ وہ تصریح کرتے ہیں کہ لفظِ “نبی” کا اطلاق ممنوع ہے، مگر یہ ممانعت اس کے باوجود ہے کہ اکابرِ رجال میں نبوتِ عامہ جاری ہے۔ یعنی حقیقت باقی ہے، احتیاط صرف لفظ کے استعمال میں ہے، تاکہ تشریعی نبوت کا اشتباہ پیدا نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں، نبی کا لقب مصلحتاً روک دیا جاتا ہے، مگر نبوت کی نسبت، اس کا مقام، اس کا علم اور اس کے امتیازات باقی رکھے جاتے ہیں۔

تیسری بات یہ کہ ابنِ عربی شیخ عبدالقادر جیلانی کے قول “ہمیں وہ کچھ دیا گیا جو تمھیں نہیں دیا گیا” کو خضر اور موسیٰ علیہما السلام کے واقعے سے سمجھاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام صاحبِ شریعت نبی، کلیم اللہ اور مرتبے میں افضل تھے، مگر خضر علیہ السلام کو ایک ایسا علم دیا گیا جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس نہیں تھا۔ ابنِ عربی اسی مثال کو نبوتِ عامہ کے حامل اولیا پر منطبق کرتے ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ان اولیا کے علم کو شریعت والے نبی کے علم سے بھی ایک خاص جہت میں زائد، ممتاز اور آگے قرار دیا جا رہا ہے۔

پھر سب سے فیصلہ کن تعبیر سامنے آتی ہے: انبیاے اولیا۔

ابنِ عربی یہ امکان بیان کرتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے قول “اے گروہِ انبیا” میں انبیا سے مراد نبوتِ عامہ کے حاملین، یعنی انبیاے اولیا، ہوں۔ یہ تعبیر پوری بحث کو نہایت واضح کر دیتی ہے۔ اب معاملہ صرف الہام، کشف یا روحانی تجربے کا نہیں رہتا؛ معاملہ یہ ہے کہ اولیا کے ایک طبقے کے لیے نبوتِ عامہ کا مقام مانا جا رہا ہے، ان پر لفظِ نبی صرف اشتباہ سے بچنے کے لیے نہیں بولا جا رہا، ان کے لیے “انبیاے اولیا” کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے، اور ان کے علم کو خضر علیہ السلام کے علم کی مثال سے شریعت والے نبی کے علم سے بھی ایک خاص جہت میں زائد بتایا جا رہا ہے۔

گویا ابنِ عربی کے نزدیک صوفیہ کے اپنے داخلی بیان میں نبوتِ عامہ کے حاملین کے لیے “انبیا” کی تعبیر ناقابلِ تصور نہیں رہتی۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کے قول “اے گروہِ انبیا” کی یہی توجیہ وہ پیش کرتے ہیں کہ یہاں انبیا سے مراد شریعت والے انبیا نہیں، بلکہ نبوتِ عامہ کے حامل انبیاے اولیا ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لفظِ نبی عام اطلاق میں مصلحتاً روکا جاتا ہے، مگر صوفیانہ تصور کے اندر نبوت کی نسبت اس درجے تک باقی رہتی ہے کہ اس کے حاملین کے لیے “انبیاے اولیا” کی تعبیر بھی قابلِ استعمال ہو جاتی ہے۔

لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ تصوف کی اس تعبیر میں ختمِ نبوت کا مطلب یہ نہیں رہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی آنے بند ہو گئے۔ اس کا مطلب صرف یہ رہ جاتا ہے کہ اب کوئی نبی نئی شریعت نہیں لائے گا۔ وہ شریعتِ محمدی کا تابع ہو گا، نبوتِ تشریعی کا حامل نہیں ہو گا، لیکن نبوتِ عامہ کا حامل ہو گا۔ اسی حیثیت سے اسے انبیاے اولیا کہا جا سکتا ہے۔

دین کا اعلان اس کے برخلاف ہے: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد نہ شریعت والا نبی، نہ بے شریعت نبی؛ نہ مستقل، نہ تابع؛ نہ ظاہری، نہ باطنی؛ نہ ظلی، نہ بروزی، نہ حکمی؛ نہ نبیِ رسول، نہ نبیِ ولی۔ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ ہر صورت میں بند ہے۔
جب یہ دروازہ کھلے گا اس سے انبیاے اولیاء پیدا ہوجائیں گے؟

حوالہ جات:
محی الدین ابنِ عربی، الفتوحات المکیہ، جلد سوم، صفحہ 136۔
قرآن مجید: الاحزاب 33:40۔
صحیح بخاری: رقم 3455، 3535، 6990۔

اس موضوع پر ویڈیو:
https://youtu.be/PtRNfRoH_1c?is=f_uwO...

1 week ago (edited) | [YT] | 1,073

Tawheed Tv

Don’t Miss This Debate‼️

1 week ago | [YT] | 11

Tawheed Tv

"ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب: روایت و تجدید کا جامع"

آج آکسفورڈ، برطانیہ میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ میری ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ سفر میں جہاں بھی جانا ہو، اہلِ علم کی صحبت میسر آئے اور وقت محض رسمی ملاقاتوں میں نہیں، علم و فکر کی گفتگو میں گزرے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس ملاقات کے حوالے سے جو محبت آمیز اور قدر افزا کلمات تحریر فرمائے، وہ ان کی شفقت اور وسعتِ ظرف ہے۔

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب ہمارے عہد کی اُن نمایاں علمی شخصیات میں سے ہیں جن کی ذات میں روایت، تحقیق، تدریس، تصنیف اور معاصر ذہن سے مکالمے کی صلاحیت یکجا نظر آتی ہے۔ ان کا علمی سفر صرف ایک فرد کی محنت کا قصہ نہیں، بلکہ برصغیر کی ایک گہری علمی روایت کا تسلسل بھی ہے۔

اس روایت کا ایک اہم سلسلہ مولانا حمید الدین فراہیؒ تک پہنچتا ہے۔ مولانا فراہیؒ کے ممتاز شاگردوں میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ اور مولانا اختر احسن اصلاحیؒ کے نام خاص طور پر نمایاں ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے پاکستان تشریف لے آنے کے بعد مدرسۃ الاصلاح کی علمی قیادت میں مولانا اختر احسن اصلاحیؒ کا کردار نہایت اہم رہا۔ انہی کے اجل شاگردوں میں مولانا شہباز صاحب کا شمار ہوتا ہے، اور ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کو مولانا شہباز صاحب سے خصوصی تلمذ اور استفادے کا شرف حاصل رہا۔

ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب نے ابتدائی علمی تربیت مدرسۃ الاصلاح کے ماحول میں پائی، پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء سے تعلیم حاصل کی، اور ایک عرصے تک ندوہ میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ جیسے عظیم صاحبِ علم و دعوت کے زیے اثر رہے ان کی شخصیت کو مزید وسعت دی۔ بعد ازاں وہ آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز سے وابستہ ہوئے، جہاں انھوں نے اسلامی علوم، حدیث، فقہ، عربی زبان اور اسلامی فکری روایت کی نمائندگی کا نہایت اہم کام انجام دیا۔

ان کی علمی خدمات کا دائرہ حدیث، فقہ، اصول، عربی علوم، سیرت، تراجم اور اسلامی تاریخ کے متعدد پہلوؤں تک پھیلا ہوا ہے۔ خاص طور پر خواتین محدثات پر ان کی عظیم الشان تحقیق ہمارے زمانے کا ایک غیر معمولی علمی کارنامہ ہے۔ اس کام نے یہ حقیقت نہایت قوت کے ساتھ واضح کی کہ اسلامی علمی روایت میں خواتین کا کردار حاشیے کا نہیں، بلکہ روایتِ حدیث، تدریس، افتاء اور علمی قیادت کا ایک معتبر اور روشن باب ہے۔

میرے نزدیک ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب کی شخصیت کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کلاسیکی روایت سے گہری وابستگی رکھتے ہوئے بھی جدید ذہن کے سوالات سے بے خبر نہیں رہتے۔ وہ علم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے فہم، تحقیق، استدلال اور انسانی رہنمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یہی وصف آج کے دور میں اہلِ علم کے لیے نہایت ضروری ہے۔

گفتگو کا ایک اہم حاصل یہ بھی تھا کہ فقہ، کلام اور تصوف کے روایتی علمی دائروں نے دین کی اصل فطری تعلیمات کو واضح کرنے کے بجائے اکثر اسے پیچیدہ، نزاعی اور غیر فطری بنا دیا۔ ان دائروں کے غلبے سے اسلام کی سادہ، روشن اور فطرت سے ہم آہنگ دعوت کبھی قانونی موشگافیوں، کبھی فلسفیانہ بحثوں، اور کبھی روحانیت کے نام پر غیر مستند تصورات میں الجھ گئی۔ قرآن کا پیش کردہ دین توحید، بندگی، اخلاق، تزکیہ، عدل اور عقل و فطرت سے براہِ راست خطاب ہے؛ اسے سمجھنے کے لیے اصل مرجع وحی، فطرت اور عقلِ سلیم ہیں، نہ کہ وہ بعد کی علمی روایتیں جو رفتہ رفتہ اصل دین پر حاوی ہو گئیں۔

ڈاکٹر صاحب انھی خطوط پر دین کے علما بنانے کا ایک منظم. ادارہ چلا رہے ہیں جس کا تعارف جلد پیش کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کے علم، عمر، صحت اور خدمات میں برکت عطا فرمائے۔ دعا ہے کہ ایسی علمی نشستیں آئندہ بھی جاری رہیں اور مختلف علمی روایتوں کے درمیان خیر، حکمت، تحقیق اور سنجیدہ مکالمے کا دروازہ مزید وسیع ہو۔

محمد حسن الیاس

ملاقات کے تفصیلی احوال ڈاکٹر صاحب کی پوسٹ میں پڑھے جا سکتے ہیں:

بسم الله الرحمن الرحيم

ایک علمی و فکری نشست

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى
آكسفورڈ
14/6/2026

اتوار، 14 جون 2026ء کی شام میرے لیے نہایت خوشی اور مسرت کا باعث بنی، جب غامدی سنٹر امریکہ سے جناب حسن الیاس صاحب اپنے چند معزز رفقاء کے ہمراہ تشریف لائے۔ ان کی آمد محض ایک ملاقات نہ تھی بلکہ ایک ایسی علمی و فکری نشست کا پیش خیمہ ثابت ہوئی جس میں علم، تحقیق، دعوت، فکر اور معاصر اسلامی مباحث کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
میں نے اپنے معزز مہمانوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ ایسے اہلِ علم اور اہلِ فکر کی میزبانی ہمیشہ باعثِ سعادت ہوتی ہے جو علم کو محض معلومات کے مجموعے کے طور پر نہیں بلکہ فکری ارتقاء اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ مجلس کے آغاز ہی سے باہمی احترام، اخلاص اور علمی جستجو کا ماحول نمایاں تھا، جس نے گفتگو کو نہایت خوش گوار اور نتیجہ خیز بنا دیا۔
اس نشست میں السلام انسٹيٹيوٹ کے ڈائریکٹر ابو الفرحان صاحب بھی شریک تھے، جبکہ دیگر اہلِ علم اور طلبہ نے بھی اس مجلس میں شرکت کی۔ ابو الفرحان صاحب نے شرکاء کے سامنے السلام انسٹيٹيوٹ کا جامع تعارف پیش کیا اور انسٹيٹيوٹ کے مختلف تعلیمی منصوبوں، خصوصاً عالمیہ اور افتاء پروگراموں کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ السلام انسٹيٹيوٹ کا ہدف ایسے علماء اور محققین کی تیاری ہے جو کلاسیکی اسلامی علوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے فکری سوالات اور سماجی چیلنجز کا بھی ادراک رکھتے ہوں۔
مجلس کے دوران متعدد اہم علمی شخصیات کا ذکر آیا، جن میں امام حمید الدین فراہیؒ، میرے استاذِ محترم مولانا شہباز صاحب، اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب شامل تھے، ان حضرات کی علمی خدمات، فکری کاوشوں اور دینی میدان میں ان کے اثرات پر گفتگو ہوئی اور ان کے مختلف علمی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، نيز مولانا شکیل احمد اعظمی صاحب، مولانا ذکوان ندوی صاحب، معز احمد صاحب اور مولانا عبد الاحد ندوی صاحب كا ذكر خير ہوا۔
مولانا فراہیؒ کے افکار اور قرآنی فہم کے ان کے منفرد منہج پر گفتگو نہایت دلچسپ رہی۔ اس بات پر غور کیا گیا کہ انہوں نے قرآن مجید کے نظم اور باہمی ربط کو اجاگر کر کے فہمِ قرآن کے ایک نئے باب کو روشن کیا۔ اسی سلسلے میں استاذِ محترم مولانا شہباز صاحب کی علمی بصیرت اور تدریسی خدمات کا ذکر بھی بڑی محبت اور احترام کے ساتھ کیا گیا۔
جناب حسن الیاس صاحب کی شخصیت اور علمی خدمات پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے اس امر کا اظہار کیا کہ وہ معاصر اسلامی فکر کو پیش کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے افکار کو منظم، متوازن اور مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ان کی مہارت قابلِ ذکر ہے۔ وہ محض کسی فکر کے ترجمان نہیں بلکہ اس کے استدلالی پہلوؤں کو واضح کرنے اور معاصر ذہن کے سامنے اسے قابلِ فہم بنانے کی ایک خاص صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں سنجیدگی، علمی دیانت اور مخاطب کے ذہن کو سمجھنے کا وصف نمایاں نظر آتا ہے۔
مجھے ذاتی طور پر بھی حسن الیاس صاحب کی علمی کاوشوں سے استفادہ کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے ماضی میں میرے دو انٹرویوز نشر کیے تھے، جن کے ذریعے مختلف علمی موضوعات پر گفتگو ایک وسیع تر حلقے تک پہنچی۔ یہ ان کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ علمی مباحث اور سنجیدہ مکالمے کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ایسے پلیٹ فارم عصرِ حاضر میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ اہلِ علم کے درمیان فکری تبادلے اور علمی استفادے کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
نشست کا سب سے اہم اور فکر انگیز پہلو عصرِ حاضر میں اسلام کی دعوت اور پیش کش کے منہج پر تبادلۂ خيال تھا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آج کا انسان صرف روایت سن کر مطمئن نہیں ہوتا، بلکہ وہ سوال کرتا ہے، دلائل طلب کرتا ہے اور عقلی بنیادوں پر کسی موقف کو قبول کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے علماء اور داعیانِ دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی ذہن کو مخاطب کریں اور دین کی تعلیمات کو ایسے انداز میں پیش کریں جو عقل و فطرت دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلام بنیادی طور پر غور و فکر، تدبر اور استدلال کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن مجید بار بار انسان کو کائنات میں غور کرنے، تاریخ سے سبق لینے اور اپنی عقل کو استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا بڑا حصہ عقلی استدلال پر مشتمل ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت جیسے بنیادی عقائد کو بھی قرآن نے مضبوط دلائل اور فطری شواہد کے ساتھ پیش کیا ہے۔
گفتگو کے دوران یہ نکتہ خاص طور پر نمایاں ہوا کہ اگر کوئی بات صرف جذبات کے ذریعے قبول کی جائے تو اس کا اثر عموماً عارضی ہوتا ہے، لیکن جب کوئی بات عقل اور شعور کی سطح پر قبول کی جاتی ہے تو وہ انسان کے فکر و عمل کا مستقل حصہ بن جاتی ہے۔ ذہن جس حقیقت کو دلیل کی بنیاد پر قبول کرتا ہے، اسے آسانی سے ترک نہیں کرتا۔ اسی لیے علمی استدلال اور عقلی مکالمہ دعوتِ دین کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ہم نے اس بات پر بھی تبادلۂ خیال کیا کہ موجودہ دور میں اسلام کو ایک منظم، علمی اور تحقیقی منہج کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ سائنسی طرزِ فکر کے غلبے کے اس دور میں لوگ ہر دعوے کی دلیل اور ہر موقف کی بنیاد جاننا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ دین کی تعلیمات کو حکمت، دلیل اور علمی اسلوب کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دین کو سائنس کا تابع بنا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ دین کی ابدی تعلیمات کو ایسے انداز میں بیان کیا جائے جو جدید ذہن کے سوالات کا جواب دے سکے اور عقل کو مطمئن کر سکے۔
اسلام کی عظیم علمی روایت خود اس حقیقت کی شاہد ہے۔ محدثین کی تحقیق، فقہاء کے اصولِ استنباط، متکلمین کے استدلالی مباحث اور مفسرین کی علمی کاوشیں سب اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اسلامی تہذیب نے ہمیشہ عقل، تحقیق اور علمی مکالمے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ لہٰذا آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء محض احکام بیان کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان کی حکمت، ان کی عقلی بنیاد اور ان کے انسانی فوائد کو بھی واضح کریں۔
مجلس کے اختتام پر یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز کا سامنا صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب علم، تحقیق، عقل اور وحی کے درمیان صحیح توازن قائم کیا جائے۔ دین کی دعوت کو دل کے ساتھ ساتھ ذہن تک بھی پہنچنا چاہیے۔ جب عقل مطمئن ہوتی ہے تو ایمان مزید مضبوط ہوتا ہے، اور جب ایمان دلیل کے ساتھ جڑ جائے تو وہ شخصیت اور معاشرے دونوں میں پائیدار تبدیلی پیدا کرتا ہے۔
یہ نشست محض ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ مختلف علمی روایات اور فکری جہات کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ تھی۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے ایسے اہلِ علم کے ساتھ وقت گزارنے اور ان کے تجربات و افکار سے استفادہ کرنے کا موقع عطا فرمایا۔ دعا ہے کہ ایسی علمی و فکری مجالس مستقبل میں بھی منعقد ہوتی رہیں اور امت میں علم، بصیرت، تحقیق اور حکمت کے فروغ کا ذریعہ بنتی رہیں۔

ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ کے مضامين کے لئے channel on WhatsApp:
WhatsApp.com/channel/0029VbAxp2qGpLHHqQ3LoY0w

2 weeks ago | [YT] | 495

Tawheed Tv

"تکفیر اور توہینِ رسالت"
مذہبی جبر کی آخری پناہ گاہیں

برصغیر کی دینی روایت میں مذہبی اجارہ داری قائم رکھنے اور مخالف بیانیوں کو کچلنے کے لیے دو بڑے حربے باقی رہ گئے ہیں: پہلا تکفیر، دوسرا توہینِ رسالت۔

بہ ظاہر یہ دونوں دین، ایمان اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے عنوان سے استعمال ہوتے ہیں، لیکن تاریخی تجزیہ بتاتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ علمی استدلال کے بجاے عوامی ہیجان، مذہبی طاقت اور سماجی جبر کے آلات بن گئے ہیں۔ اب یہ محض علم کی بحث نہیں رہی، یہ مذہبی اقتدار کی زبان ہے۔

یہ مسئلہ صرف برصغیر تک محدود نہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ میں بارہا یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ جب علم کی جگہ اقتدار کی خواہش اور استدلال کی جگہ مذہبی غلبے کا جذبہ آ بیٹھا تو اختلافِ راے کو علمی اختلاف نہیں رہنے دیا گیا؛ اسے کفر، بدعت، زندقہ، شرک یا اہانت کے عنوانات میں بدل دیا گیا۔

خوارج اس تاریخ کی ابتدائی اور نہایت نمایاں مثال ہیں۔ انھوں نے تکفیر کو محض عقیدے کا حکم نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے سیاسی جنگ کا مذہبی جواز بنا دیا۔ مخالفین کے ایمان کو مشتبہ قرار دے کر ان کے خون کو مباح سمجھا گیا، اور یوں اختلافِ رائے قتل کے جواز میں بدل گیا۔ عباسی عہد کے محنۂ خلقِ قرآن میں یہی مزاج دوسری صورت میں ظاہر ہوا، جب ایک پیچیدہ کلامی مسئلے کو ریاستی عقیدے کا امتحان بنا دیا گیا، یہاں تک کہ علما کے ایمان، وفاداری اور دینی حیثیت کو حکومت کے سرکاری موقف سے ناپا جانے لگا۔ بعد کے ادوار میں سلفی و وہابی رجحانات نے توحید کے دفاع میں شرک و بدعت کی حد بندی کو اس شدت سے برتا کہ دینی اصلاح اور تکفیری مزاج کے درمیان فاصلہ سمٹنے لگا۔
عثمانی تاریخ میں قاضی زادہ لی تحریک نے بدعت کے انسداد کے نام پر صوفی رسوم، قہوہ خانوں، کافی پینے اور ،تمباکو پھوکنے کے آداب، عقلی علوم اور مساجد کے اضافی میناروں تک کو مذہبی فتووں، اخلاقی نگرانی اور ریاستی پابندیوں کا موضوع بنا دیا۔ جدید عہد میں طالبان اور ان سے متاثر جہادی و تکفیری حلقوں نے جمہوریت کو کفر کا نظام، پارلیمان کو شرک کا ادارہ، اور بعض اوقات ووٹ دینے والے عام شہری تک کو کفر کے دائرے میں کھینچنے کی کوشش کی۔

ان تمام مثالوں کا مشترک سبق ایک ہی ہے کہ جب مذہبی تعبیر طاقت کے ساتھ جڑ جاتی ہے تو وہ دلیل سے فیصلہ نہیں کرتی، پہلے فیصلہ سناتی ہے اور پھر اس کے لیے دلیل تلاش کرتی ہے۔ پھر اختلاف، اختلاف نہیں رہتا؛ جرم بن جاتا ہے۔ علم، علم نہیں رہتا؛ اقتدار کی زبان بن جاتا ہے۔ اور دین، ہدایت کے بجائے جبر کا آلہ بننے لگتا ہے۔

برصغیر میں یہ مسئلہ اس لیے زیادہ خطرناک صورت اختیار کر گیا کہ یہاں علما ایک طویل عرصے تک قضا، فتویٰ اور مذہبی اختیار کے حامل رہے۔ جدید ریاست کے قیام کے بعد جب قضا کی کرسی ان کے ہاتھ سے نکل گئی تو قضا کا ذہن باقی رہا۔ عدالت ان کے پاس نہیں رہی، مگر فتویٰ باقی تھا۔ ریاستی تلوار ان کے ہاتھ میں نہیں رہی، مگر عوامی ہیجان کو حرکت دینے کی طاقت موجود رہی۔ چنانچہ تکفیر اور توہینِ رسالت قانون اور عدالت کے بجاے عوامی مذہبی عدالتوں کے فیصلے بن گئے۔

توہینِ رسالت کی سزا ہو یا کسی کلمہ گو کی تکفیر، دونوں اپنی اصل میں علمی و دینیاتی مباحث ہیں۔ علما ان کے حق میں آیات، روایات، آثار اور فقہی اقوال سے استدلال کرتے ہیں اور اہلِ علم ان استدلالات کا سنجیدہ جواب بھی دیتے آئے ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ برصغیر کے مذہبی ماحول میں یہ بحث علم کے دائرے سے نکل چکی ہے۔ یہاں دلیل کو دلیل کے طور پر نہیں سنا جاتا، بلکہ اسے عشقِ رسول، ناموسِ دین، غیرتِ ایمانی اور کفر و زندقہ کے نعروں میں ڈبو دیا جاتا ہے۔ اس لیے جواب موجود ہونے کے باوجود علمی موقف کے طور پر سمجھا نہیں جاتا، کیونکہ مسئلہ اب دلیل کا نہیں، مذہبی شناخت، جذباتی وابستگی اور عوامی ہیجان کا ہے۔

اس مذہبی نفسیات کی تشکیل میں احمد رضا خان بریلوی کے مکتب فکر نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس مکتب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو صرف منصبِ رسالت کے دائرے میں نہیں رکھا، بلکہ حاضر و ناظر، علمِ ما کان وما یکون سے بہرہ مند اور کائنات میں روحانی وساطت و اثر کی حامل ایک ماورائی مرکزیت کے طور پر پیش کیا۔ نتیجتاً رسالت، ولایت، تصوف اور شریعت کے مباحث ایک ہی جذباتی، کلامی اور تقدیسی نظام میں ضم ہو گئے۔

اس فریم ورک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سے متعلق کوئی متبادل تعبیر، تنقید یا علمی اختلاف محض اختلاف نہیں رہتا، فوراً ’’گستاخی‘‘ بنتا ہے، پھر ’’کفر‘‘ بنتا ہے اور پھر عوامی نفرت کا عنوان بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں توہینِ رسالت اور تکفیر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔

برصغیر میں اس کا سب سے نمایاں ظہور خود دیوبندی اکابر کے خلاف ہوا۔ مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا خلیل احمد سہارنپوری جیسے علما پر بریلوی حلقوں کی طرف سے گستاخی اور کفر کے فتوے لگائے گئے۔ دیکھا جائے تو اس خطے میں توہینِ رسالت کے منظم الزام کا پہلا بڑا ہدف خود دیوبند کی اعلیٰ قیادت بنی۔

دیوبندی علما نے ابتدا میں المہند علی المفند کے ذریعےسے اپنا دفاع کیا، لیکن جلد انھیں اندازہ ہو گیا کہ یہ بحث عوامی سطح پر علمی اصولوں پر نہیں لڑی جا سکتی۔ بریلوی فکر نے عشقِ رسول، میلاد، قل، گیارہویں اور مذہبی تہواروں کے ذریعے سے عوامی مذہبی نفسیات پر گہرا اثر قائم کر لیا تھا۔ اس کے مقابلے میں دیوبند کی علمی روایت، اپنے محدثانہ و فقہی مزاج کے باوجود، عوامی جذبات کی سطح پر کم زور رہی۔

چنانچہ دیوبندی مکتب فکر نے رفتہ رفتہ ایک دفاعی مصالحت اختیار کی۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں یہ مصالحت مزید گہری ہوئی۔ جب توہینِ رسالت کی سزا پر قانون سازی کا ماحول بنا تو دیوبندی قیادت نے اپنے اوپر لگے تاریخی داغ کو دھونے کے لیے بریلوی موقف کے ساتھ کھڑا ہونا بہتر سمجھا۔ یہاں تک کہ اپنے فقہی ورثے کے اختلافات، توبہ کی گنجایش، مسلم و غیر مسلم کی تفریق اور مرد و عورت کے فرق جیسے مباحث کو پس منظر میں ڈال دیا گیا۔

مگر معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ جس حربے کا زخم دیوبند نے خود کھایا تھا، بعد کے زمانے میں اسی حربے کو دیوبندی سیاست کے بعض حلقوں نے دوسروں کے خلاف استعمال کیا۔ شیعہ تکفیر کی منظم تحریکیں اٹھیں، ’’کافر کافر شیعہ کافر، جو نہ مانے وہ بھی کافر‘‘ جیسے نعرے مذہبی جلسوں کا حصہ بنے اور فرقہ دارانہ سیاست نے تکفیر کو علمی حکم نہیں رہنے دیا، بلکہ اجتماعی نفرت، سماجی اخراج اور مذہبی تشدد کا ذریعہ بنا دیا۔
یہی اصل المیہ ہے۔ تکفیر اور توہینِ رسالت کبھی ایک مکتب کے خلاف استعمال ہوئے، کبھی دوسرے کے خلاف؛ کبھی دیوبندی ان کا ہدف بنے، کبھی شیعہ، کبھی بریلوی، کبھی اہلِ حدیث، کبھی جدید دینی فکر کے حاملین۔ ہر گروہ نے کسی نہ کسی مرحلے پر یہ سمجھا کہ یہ آگ اس کے ہاتھ میں محفوظ رہے گی، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی آگ آخرکار اپنے جلانے والوں کے دامن تک بھی پہنچتی ہے۔

آج دیوبندی مکتب فکر کے لیے یہ ایک point of no return بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان دیوبندی علما میں اس مصالحت کا احساس موجود ہے، لیکن واپسی کی قیمت بہت بھاری ہے۔ عوامی مذہبی ذہن تکفیر اور توہینِ رسالت کے بیانیے کو اس قدر قبول کر چکا ہے کہ خود علما بھی اسے کھل کر چیلنج کرنے سے گریزاں ہیں۔

یہی صورت حال افغانستان کے جہاد کے بیانیے میں بھی دیکھی گئی تھی۔ جب عالمی سیاست کی ایک جنگ کو طاقت کے حصول کے لیے دینی جہاد بنا کر پیش کیا گیا تو بعد میں اسی بیانیے سے پیدا ہونے والی قوتیں اپنے اکابر کے قابو میں نہ رہیں۔ توہینِ رسالت اور تکفیر کا معاملہ بھی اسی خطرے کی طرف بڑھ چکا ہے۔ ایک بار جب مذہبی ہیجان کو علم کے بجاے طاقت کی زبان دے دی جائے تو پھر اسے واپس مدرسے، محراب اور کتاب کے حدود میں لانا آسان نہیں رہتا۔

اصل بات یہ ہے کہ یہ اب علم کی بحث نہیں رہی، یہ مذہبی طاقت کا اظہار ہے۔ تکفیر اور توہینِ رسالت اب علمی و فقہی مباحث کے عنوانات نہیں، بلکہ عوامی مذہبی طاقت کی آخری پناہ گاہیں بن چکی ہیں؛ ایسی پناہ گاہیں جن میں پناہ لینے والے بھی آخرکار اپنے ہی پیدا کردہ خوف کے قیدی بن جاتے ہیں۔

اب تو صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ تکفیر جیسے قبیح فعل سے گریز بھی جرم بنا دیا گیا ہے؛ وہ فعل جس میں کسی کلمہ گو کو ملت سے نکالنے کا عزم شامل ہوتا ہے۔ جو شخص اس کارِ بد سے ہاتھ روکنا چاہے، اسے مشتبہ بنایا جاتا ہے، مطعون کیا جاتا ہے اور کبھی زندیق و ملحد جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے۔

حالاں کہ قرآن نے میدانِ جنگ میں اُس شخص کے بارے میں بھی یہ کہنے سے روک دیا ہے جو مسلمانوں کو سلام پیش کرے کہ تم مومن نہیں ہو۔ یہ تنبیہ معمولی نہیں ہے؛ یہ ایمان، اقرار اور انسانی حرمت کے باب میں قرآن کا نہایت بنیادی اصول ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایمان کا فیصلہ انسان کے ظاہر اقرار پر ہوگا، دلوں کا معاملہ خدا کے سپرد رہے گا۔ جو دین جنگ کے میدان میں بھی ایمان کے دعوے کو اتنی حرمت دیتا ہے، اُس دین کے نام پر منبر، جلسے اور سوشل میڈیا سے کلمہ گو مسلمانوں کو ملت سے باہر پھینکنا علم نہیں، دین میں جسارت ہے؛ خدا کے اختیار میں مداخلت ہے؛ اور ایمان کے نام پر انسان کی حرمت کو پامال کرنے کا بدترین مذہبی جرم ہے۔

اس لیے مکتبِ فراہی کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے ہم پوری صراحت کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے مذہبی مقتدر حلقے الٹے کیوں نہ لٹک جائیں، ہم کسی ایک کلمہ گو کی تکفیر کے جرم کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ ہم عقیدے کی غلطی کو غلطی کہیں گے، گمراہی کو گمراہی کہیں گے، کفر کو کفر کہیں گے، لیکن کسی انسان کے دل، ایمان اور آخرت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے۔

اور اسی اصولی موقف کی پاداش میں ہمارے استادِ مکرم جناب جاوید احمد غامدی پر زندقہ، الحاد اور گمراہی کے جو فتوے داغے گئے ہیں، ہم خوب جانتے ہیں کہ ان کا مقصد علمی محاکمہ نہیں، بلکہ عوامی اشتعال، مذہبی نفرت اور جذباتی دباؤ پیدا کرنا ہے، تاکہ اہلِ علم مرعوب ہو کر حق بات کہنے سے باز آ جائیں۔

ہم صاف اعلان کرتے ہیں کہ ایسے فتووں اور ان کے پیچھے کارفرما مذہبی ہتھکنڈوں کی حیثیت ہمارے نزدیک پرِکاہ کے برابر بھی نہیں۔ علم کو فتویٰ سے، دلیل کو نعرے سے، اور ضمیر کو جتھے کے خوف سے دبایا نہیں جا سکتا۔ جو لوگ دلیل کے میدان میں شکست کھا جاتے ہیں، وہی الزام، تہمت اور مذہبی اشتعال کے سہارے کھڑے ہوتے ہیں۔

یہ منصب خدا کا ہے کہ وہ لوگوں کے باطن پر حکم لگائے؛ خطیبوں، مفتیوں، مناظروں اور مذہبی جتھوں کا نہیں۔ ایمان کے فیصلے منبر کے شور، جلسے کے نعرے اور سوشل میڈیا کے فتووں سے نہیں ہوتے۔

یہی دین کی اخلاقیات ہے۔ یہی علم کی امانت ہے۔ یہی ایمان کی شرافت ہے۔ اور یہی وہ حد ہے جسے عبور کرنا ہمارے نزدیک دین کے نام پر سب سے بڑی جسارت ہے۔ ہم یہ جسارت کبھی نہیں کریں گے؛ چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔

وَلَوْ قَطَّعُوا رَأْسِي لَدَيْكِ وَأَوْصَالِي

محمد حسن الیاس
10 جون 2026ء

2 weeks ago | [YT] | 1,130

Tawheed Tv

"قادیانیت، ختمِ نبوت، امامت اور نماز میں شرکت"
(غامدی صاحب کا موقف:چند ضروری توضیحات)

جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے موقف کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت، قادیانیت، نماز کی امامت، اور قائم نماز میں شرکت کے اصول کو الگ الگ دائرے میں رکھا جائے۔ اِن میں سے ہر پہلو کی اپنی نوعیت، اپنا محل اور اپنا دائرۂ اطلاق ہے۔

بالعموم غلط فہمی اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب اِن مختلف اصولی، فقہی، دعوتی اور عملی پہلوؤں کو ایک دوسرے سے خلط ملط کر دیا جائے، یا کسی اطلاقی گفتگو کے چند اجزا کو اُن کے اصل سیاق سے الگ کر کے مستقل موقف کے طور پر پیش کیا جائے۔

غامدی صاحب کے ہاں ختمِ نبوت دینِ اسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی معنی میں نبوت کے اجرا کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اسی طرح نماز کی امامت کے لیے امام کا مسلمان ہونا ایک بنیادی شرط ہے۔ البتہ کسی قائم نماز میں شرکت کا معاملہ امام کے انتخاب سے مختلف ہے۔ اِس فرق کو سامنے رکھا جائے تو اُن کے موقف کی اصل نوعیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔

اس سلسلے میں تکفیر سے متعلق غامدی صاحب کا اصولی موقف جاننے کے لیے اُن کا مضمون ”مسلم اور غیر مسلم“ دیکھا جا سکتا ہے۔ اِس مضمون میں وہ واضح کرتے ہیں کہ کسی عقیدے کو غلط، ضلالت یا گمراہی کہا جا سکتا ہے، لیکن جو لوگ اسلام کا اقرار کرتے ہیں، اُنھیں غیر مسلم یا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دنیا میں وہ اپنے اقرار کے مطابق مسلمان سمجھے جائیں گے، اور اُن کے ساتھ معاملات بھی مسلمانوں ہی کے طریقے پر کیے جائیں گے۔

اسی طرح ”میزان“ میں نمازِ باجماعت کے باب میں اُن کی عبارت سے واضح ہے کہ امامت کے لیے امام کا مسلمان ہونا بنیادی شرط ہے، اور مسلمانوں ہی میں سے اُس شخص کو ترجیح دی جائے گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق امامت کے لیے زیادہ موزوں ہو۔

اُن کا موقف درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:

1۔ امام کے انتخاب کا اصول

کسی بھی مقام پر جب نماز کے لیے امام کا انتخاب کیا جائے تو سب سے پہلے یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ امام محض صف کے آگے کھڑا ہونے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ مسلمانوں کی مشروع عبادت کا قائد اور نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لیے امامت کی حقیقت ہی یہ تقاضا کرتی ہے کہ امام خود اس عبادت کا اہل ہو۔

غامدی صاحب نے ”میزان“ میں نمازِ باجماعت کے باب میں اسی دائرے کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

”نماز ہر نیک وبد مسلمان کے پیچھے پڑھی جائے گی۔ تاہم اِس کی امامت کے لیے کسی کا انتخاب پیش نظر ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ یہ ذمہ داری اُس شخص کو دی جائے جو لوگوں میں زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو۔ پھر اگر وہ قرآن پڑھنے میں برابر ہوں تو جو اُن میں سنت کا زیادہ جاننے والا ہو، اگر سنت کے جاننے میں برابر ہوں تو جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اور اگر اُس میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو۔ نیز فرمایا کہ کوئی شخص کسی کے دائرۂ اختیار میں امامت نہ کرے، بلکہ جس کے ہاں جائے اُس کی امامت میں نماز پڑھے۔“

(میزان، باب: نماز کی جماعت، عنوان: امام)

اس عبارت سے واضح ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک امامت کا معاملہ مسلمانوں ہی کے دائرے میں آتا ہے۔ پہلے یہ بنیادی شرط ہے کہ امام مسلمان ہو؛ اس کے بعد مسلمانوں میں سے امامت کے لیے ترجیح کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق قرآن، سنت، عمر، سابقہ دینی وابستگی اور دائرۂ اختیار جیسے امور کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔

اسی حقیقت کی بنا پر فقہا نے امام کے لیے مسلمان، عاقل و ہوش مند، قرأت و ارکانِ نماز کی ادائیگی پر قادر، اور نماز کی شرائط کا پابند ہونے کو بنیادی شرائط میں شمار کیا ہے۔ یہ شرائط محض صواب دیدی نہیں، بلکہ امامت کی حقیقت کے عقلی اور دینی لوازم ہیں؛ کیونکہ جو شخص خود اِس عبادت کا اہل نہ ہو، وہ مسلمانوں کی اجتماعی عبادت کا قائد اور نمائندہ امام بھی نہیں ہو سکتا۔

2۔ نماز میں شرکت کا اصول

دوسری صورت یہ ہے کہ ہم کسی مقام پر پہنچیں اور وہاں ایک شخص پہلے سے مسلمانوں کو نماز پڑھا رہا ہو۔ اس صورت میں ہم امام کا انتخاب نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ایک قائم جماعت میں شریک ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں ہوتا کہ امامت کے لیے سب سے بہتر شخص کون ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے معروف طریقے کے مطابق نماز پڑھا رہا ہے، اُس کے پیچھے نماز پڑھنے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے۔

غامدی صاحب کے نزدیک اصول یہ ہے کہ ہر ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے جو نماز ہی کے اندر شرک، کفر یا ایسی بدعت کا ارتکاب نہ کر رہا ہو جو نماز کو باطل کر دے۔ دین نے ہم پر یہ پابندی عائد نہیں کی کہ کسی قائم جماعت میں شریک ہونے سے پہلے امام کے عقائد، مسلک، فقہی آرا یا باطنی حالات کی تفتیش کریں۔

اس لیے اگر کوئی شخص مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نماز پڑھا رہا ہے تو محض اختلافِ مسلک، کلامی تعبیرات یا اعتقادی اختلافات کی بنا پر اُس کے پیچھے نماز سے گریز درست رویہ نہیں۔ دینی معاملات میں دنیا کے اندر فیصلہ ظاہر دینی نسبت اور نماز کے مشروع طریقے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، باطن کی تفتیش کی بنیاد پر نہیں۔

3۔ قادیانی حضرات کا معاملہ:

جہاں تک قادیانی حضرات کا تعلق ہے، اُن کا معاملہ عام مسلکی یا کلامی اختلاف کا نہیں، بلکہ ختمِ نبوت سے متعلق ایک صریح کفریہ عقیدے کا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، لیکن ختمِ نبوت کے باب میں اُن کا موقف اسلام کے قطعی عقیدے کے خلاف ہے۔ مسلمانوں کا دینی فریضہ یہ ہے کہ اُنھیں صحیح دین کی دعوت دی جائے۔تاہم کسی فرد کے باطن اور اخروی انجام کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے؛ البتہ دنیا میں معاملات ظاہر اقرار کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔

قادیانی حضرات نے اپنے عقیدۂ نبوت کی بنیاد پر عملاً ایک الگ دینی شناخت قائم کر رکھی ہے۔ اُن کے ہاں مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والے مسلمان اُن کی دینی جماعت کا حصہ نہیں سمجھے جاتے۔

اس بنا پر اُن کی طرف سے مسلمانوں کی جماعت کی امامت کا سوال ہی خارج از امکان ہے۔ جماعت کی نماز مسلمانوں کی اجتماعی عبادت ہے، اور امام اِس عبادت میں اُن کا نمائندہ ہوتا ہے۔ جو شخص خود مسلمانوں کو اپنی دینی جماعت کا حصہ نہ سمجھتا ہو، وہ اُنھی مسلمانوں کی نمائندہ عبادت کا امام کیسے ہو سکتا ہے؟

4۔ غیر مسلم یا ملحد شخص کی امامت:

اسی طرح اگر کوئی شخص حقیقت میں الحاد کا دعوے دار ہو، یا اعلانیہ غیر مسلم ہو، اور پھر مسلمانوں کی نماز کی امامت کا خواہش مند ہو، تو اُس سے یہی کہا جائے گا کہ نماز محض چند حرکات کا نام نہیں، بلکہ ایک مشروع دینی عبادت ہے۔

اگر وہ صدقِ دل سے اسلام قبول کر کے کلمۂ شہادت کا اقرار کرتا ہے اور مسلمانوں کی جماعت کا حصہ بنتا ہے تو اصولاً امامت کا اہل ہو سکتا ہے۔ لیکن اسلام کا اقرار کیے بغیر مسلمانوں کی اجتماعی عبادت کی امامت کا مطالبہ نہ دینی طور پر قابلِ فہم ہے، نہ عقلی طور پر۔ہم صرف اس ضابطے پر انتخاب کریں جو رسالت ماب نے طے فرمادیا ہے۔

5۔ خیر اور نیکی کے کاموں میں شرکت کا اصول:

اِس کے ساتھ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ دین نے ہمیں عمومی خیر، اخلاقی تعاون، سماجی بھلائی اور نیکی کے کاموں میں دوسروں کے ساتھ شرکت یا تعاون سے نہیں روکا۔ جہاں شرک، کفر یا کوئی صریح دینی قباحت شامل نہ ہو، وہاں خیر کے کاموں میں شرکت کی گنجائش ہے۔

اسی طرح اگر کوئی غیر مسلم یا کسی دوسری دینی شناخت رکھنے والا شخص مسلمانوں کے کسی دینی، سماجی یا اخلاقی عمل میں شریک ہونا چاہے تو اُسے اُس عمل کی حدود، آداب اور شرائط کے ساتھ شریک ہونے دیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ شرکت اور چیز ہے، اور مسلمانوں کی اجتماعی عبادت کی امامت اور نمائندہ قیادت بالکل دوسری چیز ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

چنانچہ خلاصہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک ختمِ نبوت دین کا قطعی عقیدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی معنی میں نبوت کے اجرا کا تصور گمراہی ہے، اور اِس معاملے میں اُن کے موقف میں کوئی ابہام نہیں۔

امام کے انتخاب کے وقت بنیادی بات یہ ہے کہ امام مسلمان ہو اور مسلمانوں کی مشروع عبادت کی قیادت کا اہل ہو۔ البتہ جب ہم کسی جگہ قائم نماز میں شریک ہو رہے ہوں تو اصولاً اُس شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے جو بظاہر اسلامی طریقے کے مطابق نماز پڑھا رہا ہو، اور نماز میں کسی شرک، کفر یا ایسی بدعت کا ارتکاب نہ کر رہا ہو جو نماز کو باطل کر دے۔ نماز میں شرکت سے پہلے امام کے کلامی موقف، فقہی مسلک یا اعتقادی تعبیرات کی تفتیش کا ہمیں مکلف نہیں بنایا گیا۔

البتہ جو شخص خود کو مسلمان نہ کہتا ہو، یا اپنے عقیدے کی بنیاد پر مسلمانوں کو مسلمان نہ سمجھتا ہو اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ایک مستقل دینی شناخت رکھتا ہو، اُس کی امامت کا سوال عقلاً پیدا ہی نہیں ہوتا۔ جماعت کی نماز مسلمانوں کی اجتماعی عبادت ہے، اور امام اُس عبادت کا نمائندہ قائد ہوتا ہے۔ جو شخص خود اِس جماعت کا فرد نہیں، وہ اِس جماعت کی عبادت کا نمائندہ امام بھی نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح خیر، نیکی، اخلاقی تعاون اور سماجی بھلائی کے کاموں میں، حدود و شرائط کے ساتھ، دوسروں کے ساتھ شرکت کا اصول اپنی جگہ باقی ہے۔ اسے امامتِ نماز کے مسئلے کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے۔

محمد حسن الیاس
8 جون 2026

3 weeks ago | [YT] | 1,033

Tawheed Tv

Don’t Miss‼️

3 weeks ago | [YT] | 15

Tawheed Tv

Favourite Duo💕

1 month ago | [YT] | 1,268

Tawheed Tv

Don’t Miss‼️

1 month ago | [YT] | 12

Tawheed Tv

عید مبارک💕

1 month ago | [YT] | 2,125

Tawheed Tv

New Podcast with Faisal Warraich‼️

1 month ago | [YT] | 7