Wasim Akram | Journalist
Truth. Analysis. Public Voice.
Here, you’ll get the reality no one else tells you:
Politics, economy, and system exposed — fearlessly.
* Facts & Numbers.
* Bold Analysis.
* Awareness & Insight.
* No Fear, No Filter.
* Insights That Matters.
“Dare to hear the truth? Follow now.”
Wasim Akram Journalist
جب دنیا کی نظریں بارود کے دھوئیں میں الجھی ہوئی ہیں ۔ عین اسی لمحے پاکستان ایک مختلف کہانی لکھ رہا ہے۔ یہ صرف سفارتکاری نہیں، یہ اعتماد، توازن اور وقت کی نبض کو پہچاننے کا ہنر ہے۔ اور سچ یہی ہے کہ ایسے لمحات بار بار نہیں آتے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ چکے ہیں ۔ نہ صرف ایک پیغام کے ساتھ، بلکہ ایک کردار کے ساتھ۔ ایک ایسا کردار جس میں ثالثی بھی ہے، ذمہ داری بھی، اور خطرہ بھی۔ ان کے ہمراہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور اعلیٰ سطحی وفد کی موجودگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اس بحران کو محض دیکھ نہیں رہا، بلکہ اس کے بیچ کھڑا ہو کر سمت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا خود ہوائی اڈے پر استقبال کرنا کوئی معمولی سفارتی اشارہ نہیں ۔ یہ ایک پیغام ہے کہ دروازہ کھلا ہے، مگر وقت کم ہے۔
پس منظر میں جھانکیں تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔ چند ہفتے قبل ہونے والے مشترکہ امریکی و اسرائیلی حملوں نے خطے کو ایک نئی آگ میں دھکیل دیا۔ ایران اپنی خودمختاری اور جوہری پروگرام پر کسی دباؤ کو قبول کرنے کو تیار نہیں، جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر قائم ہے۔ ایسے میں اسلام آباد میں ہونے والی ابتدائی بات چیت امید کی ایک کرن ضرور تھی، مگر نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ اس کے باوجود رابطے منقطع نہیں ہوئے ۔ پیغامات کا تبادلہ جاری رہا، اور یہی تسلسل اب تہران میں ایک نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر بھی لہجہ بدلتا محسوس ہو رہا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ دروازے مکمل بند نہیں ہوئے، جبکہ تہران بھی مکمل انکار کی پوزیشن پر کھڑا نظر نہیں آتا۔ اس بیچ پاکستان کا کردار محض “پیغام رسان” کا نہیں بلکہ “اعتماد کے پل” کا بنتا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ پل اس دباؤ کو سہہ پائے گا؟
کیونکہ تصویر کا دوسرا رخ کم خطرناک نہیں۔ سمندروں میں جنگی جہازوں کی موجودگی برقرار ہے، پابندیاں اپنی جگہ قائم ہیں، اور عدم اعتماد کی دیوار ابھی بھی بلند ہے۔ عالمی ادارے بھی خبردار کر رہے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو صرف الفاظ نہیں، بلکہ سخت نگرانی اور عملدرآمد کی ضمانت درکار ہوگی ۔ ورنہ یہ وقتی سکون ایک بڑے دھماکے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف خلیجی اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون، دوسری طرف ایران کے ساتھ حساس مذاکرات ۔ یہ دو متضاد دھارے ہیں جن کے بیچ چلنا آسان نہیں۔ لیکن شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سفارتکاری اپنی اصل طاقت دکھاتی ہے: جب آپ سب کے ساتھ کھڑے ہوں، مگر کسی کے خلاف نہ ہوں۔
یہ لمحہ صرف خبروں کی سرخی نہیں ، بلکہ یہ تاریخ کا مسودہ ہے۔ ایک ایسا مسودہ جس میں پاکستان کا کردار پہلی بار مرکزی حیثیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ مگر تاریخ ہمیشہ نتائج سے لکھی جاتی ہے، نیتوں سے نہیں۔
اگلے چند دن فیصلہ کن ہوں گے۔ کیا یہ کوششیں ایک دیرپا امن کی بنیاد رکھیں گی؟ یا یہ سب کچھ محض ایک وقفہ ثابت ہوگا ۔ اس طوفان سے پہلے، جس کے آثار اب بھی فضا میں معلق ہیں؟
جو بھی ہو، ایک بات طے ہے: دنیا دیکھ رہی ہے۔ اور اس بار، نظریں اسلام آباد پر ہیں۔
لکھاری و مصنف : وسیم اکرم
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Wasim Akram Journalist
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Wasim Akram Journalist
Hi everyone, welcome to my new YouTube Community! Now you can post on my channel, too. To get started, tell me in a post what you'd like to see next on my channel.
Visit my Community: youtube.com/@WasimAkramJournalist/community
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Wasim Akram Journalist
کالم: ٹرمپ کی تجارتی دھمکی اور سپین کا چین کی طرف جھکاؤ — عالمی سیاست کا نیا موڑ
کیا دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے… جہاں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی دھمکیاں ہیں اور دوسری طرف پیڈرو سانچیز خاموشی سے چین جا کر عالمی طاقت کا توازن بدلنے نکل پڑے ہیں؟
دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے وقتی دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ جب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی بائیکاٹ کی دھمکی سامنے آئی تو یہ محض ایک بیان نہیں تھا بلکہ عالمی معیشت کے اعصاب پر ہاتھ رکھنے کے مترادف تھا۔ اس دھمکی نے نہ صرف یورپ بلکہ ایشیا تک ایک نئی بحث چھیڑ دی—کیا دنیا واقعی ایک نئی معاشی تقسیم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اور اگر ہاں، تو اس تقسیم میں کون کس کے ساتھ کھڑا ہوگا؟
ایسے نازک وقت میں سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا چین کا دورہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے۔ یہ پیغام امریکہ کے لیے بھی ہے اور یورپی یونین کے دیگر ممالک کے لیے بھی کہ اب دنیا یک قطبی نہیں رہی۔ سپین، جو یورپ کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، اس نے کھل کر یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے معاشی مفادات کو کسی ایک طاقت کے تابع نہیں کرے گا۔ چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا دراصل ایک متوازن پالیسی کا حصہ ہے، جس میں سپین اپنی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنا چاہتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کا اصل مقصد کیا ہے؟ بظاہر یہ “امریکہ فرسٹ” کی پالیسی کا تسلسل ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ امریکہ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر و رسوخ کو روکنا چاہتا ہے، اور اس کے لیے وہ اپنے اتحادیوں پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔ لیکن یہ حکمت عملی اب الٹی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ جب یورپی ممالک، جیسے کہ سپین، اس دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے لگیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی گرفت کمزور ہو رہی ہے۔
چین کے لیے یہ صورتحال ایک سنہری موقع ہے۔ شی جن پنگ کی قیادت میں چین پہلے ہی “بیلٹ اینڈ روڈ” جیسے منصوبوں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔ سپین جیسے ممالک کا قریب آنا نہ صرف چین کی معیشت کو مزید تقویت دے گا بلکہ اسے یورپ میں ایک مضبوط قدم جمانے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔ یہ وہی یورپ ہے جو ماضی میں امریکہ کا مضبوط اتحادی سمجھا جاتا تھا، مگر اب وہ اپنے مفادات کی بنیاد پر نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔
یہ ساری صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اتحاد مستقل نہیں بلکہ مفادات کے تابع ہیں۔ سپین کا چین کی طرف جھکاؤ دراصل اس بدلتی ہوئی دنیا کی ایک جھلک ہے، جہاں ممالک اپنی بقا اور ترقی کے لیے روایتی اتحادوں سے ہٹ کر فیصلے کر رہے ہیں۔ اگر امریکہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کرتا، تو وہ دن دور نہیں جب اس کے اپنے اتحادی بھی اس سے دور ہوتے جائیں گے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ٹرمپ کی تجارتی دھمکی نے ایک ایسی لہر کو جنم دیا ہے جو صرف امریکہ اور چین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سپین کا یہ قدم شاید ایک آغاز ہے—ایک ایسے عالمی نظام کا آغاز، جہاں طاقت کا توازن مسلسل بدلتا رہے گا اور ہر ملک کو اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے۔ سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس نئی بساط پر کون کتنی دیر تک خود کو قائم رکھ پائے گا۔
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Wasim Akram Journalist
بیانیے کی جنگ ۔ جب “انتہاپسندی” ایک ہتھیار بن جائے
دنیا کی سیاست میں الفاظ کبھی معصوم نہیں ہوتے۔ خاص طور پر وہ الفاظ جو طاقتور ریاستیں استعمال کرتی ہیں۔ “انتہاپسندی” بھی ایسا ہی ایک لفظ ہے۔ جسے آج اسرائیل نے ایک بار پھر استعمال کیا، اور ہدف ہے ایران کی نئی قیادت۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ ایران واقعی کیا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ لیبل لگانے والا خود کس مقام پر کھڑا ہے۔
غزہ آج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا۔ یہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے OCHA کے مطابق لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، اور انسانی امداد ناکافی ہے۔ World Food Programme بارہا خبردار کر چکا ہے کہ غزہ قحط کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ سب کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں۔ یہ سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
ایسے میں جب اسرائیل ایران کو “انتہاپسند” قرار دیتا ہے، تو یہ صرف ایک سیکیورٹی بیان نہیں رہتا۔ یہ ایک اخلاقی دعویٰ بن جاتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ بیانیہ کمزور پڑتا ہے۔
لیکن اگر تم صرف اسرائیل کو موردِ الزام ٹھہرا کر رک جاؤ، تو تم وہی غلطی کر رہے ہو جو زیادہ تر لوگ کرتے ہیں: سادہ کہانی بنا دینا۔
حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ایران کوئی غیر متعلق یا غیر فعال کردار نہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اس نے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ چاہے وہ عراق ہو، شام ہو یا لبنان۔ اس کی پالیسیز، خاص طور پر غیر ریاستی عناصر کی حمایت، کئی ممالک کے لیے سیکیورٹی خدشات پیدا کرتی رہی ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جسے اسرائیل عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے—اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر وہ اپنے بیانیے کو کھڑا کرتا ہے۔
یہاں ایک اہم موڑ آتا ہے۔
2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والا Joint Comprehensive Plan of Action (JCPOA) ایک نایاب سفارتی کامیابی سمجھا گیا تھا۔ مگر اسرائیل نے اس کی سخت مخالفت کی، اسے اپنی بقا کے لیے خطرہ قرار دیا۔ بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2018 میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کی۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کا جوہری پروگرام مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھا۔ یعنی جس خطرے کو روکنے کے لیے یہ سب کیا گیا، وہی خطرہ مزید بڑھ گیا۔
تو کیا اسرائیل غلط تھا؟ یا صرف ایک مختلف زاویے سے درست تھا؟
یہی وہ سوال ہے جو اس پورے معاملے کو پیچیدہ بناتا ہے۔
اسرائیل اپنی سیکیورٹی کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ اور یہ ہر ریاست کا حق ہے۔ لیکن جب سیکیورٹی کے نام پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو بڑے پیمانے پر انسانی نقصان کا باعث بنیں، تو وہی اقدامات عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو کمزور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Amnesty International اور Human Rights Watch جیسے ادارے اسرائیلی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں، جبکہ International Criminal Court میں بھی اس حوالے سے قانونی کارروائیاں زیرِ بحث رہی ہیں۔
یہاں ایک اور پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بیانیے کی جنگ۔
آج کی دنیا میں جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ میڈیا، سفارتکاری اور الفاظ کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ “انتہاپسندی” کا لیبل اسی جنگ کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد صرف حقیقت بیان کرنا نہیں، بلکہ عالمی رائے عامہ کو ایک خاص سمت میں لے جانا ہوتا ہے۔ جب اسرائیل ایران کو اس نام سے پکارتا ہے، تو وہ دراصل ایک سفارتی ماحول تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ جہاں ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت کو مشکوک بنا دیا جائے۔
لیکن سوال پھر وہی ہے:
کیا دنیا اب بھی وہی بیانیہ مانے گی؟
گزشتہ چند سالوں میں عالمی رائے عامہ میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اقوام متحدہ میں ووٹنگ پیٹرنز، یورپ اور امریکہ میں عوامی مظاہرے، اور سوشل میڈیا پر بدلتا ہوا ڈسکورس۔ یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب معلومات یک طرفہ نہیں رہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست یہاں تک پہنچتے ہیں۔چاہے وہ معاشی ہوں، سفارتی ہوں یا سیکیورٹی کے حوالے سے۔ اس لیے یہ معاملہ محض دور کی جنگ نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران ہے جس کے اثرات وسیع اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔
آخر میں سوال سادہ ہے، مگر جواب پیچیدہ:
انتہاپسندی کیا ہے؟
کیا یہ صرف وہ ہے جو ایک ریاست اپنے مخالف کے بارے میں کہتی ہے؟
یا وہ بھی جو زمینی حقیقت میں نظر آتا ہے؟
شاید سچ دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
مگر ایک بات واضح ہے۔
جب الفاظ ہتھیار بن جائیں، تو حقیقت سب سے پہلے زخمی ہوتی ہے۔
2 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Wasim Akram Journalist
اسلام آباد میں 21 گھنٹے تک دروازے بند رہے… مگر جب دروازہ کھلا تو امن نہیں آیا، بلکہ ایک کڑا سوال سامنے آیا: کیا یہ ناکامی ہے یا ایک طویل سفارتی جنگ کی شروعات؟
اسلام آباد نے ایک ایسا لمحہ دیکھا جو محض خبر نہیں بلکہ تاریخ کا موڑ ہے۔ ایک طرف جے ڈی وینس بیٹھے تھے، جبکہ دوسری جانب ایران کی نمائندگی محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی کر رہے تھے۔ یہ وہی دو ممالک ہیں جن کے درمیان نہ صرف شدید کشیدگی موجود ہے بلکہ تقریباً 47 سال سے سفارتی تعلقات بھی منقطع ہیں۔ ایسے حالات میں ایک میز پر بیٹھنا خود ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
تاہم 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد جب امریکی نائب صدر میڈیا کے سامنے آئے تو ان کے الفاظ نے تمام توقعات کو حقیقت کی زمین پر لا کھڑا کیا:
"ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، ہم اپنی آخری پیشکش دے کر جا رہے ہیں، اب فیصلہ ایران کا ہے۔"
یہ بیان بظاہر سادہ تھا، مگر درحقیقت اس میں دباؤ، وارننگ اور آئندہ حکمت عملی تینوں پوشیدہ تھیں۔
اصل تنازعہ وہی پرانا مگر نہایت حساس ہے: ایران کا جوہری پروگرام۔ امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران نہ صرف اس وقت بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے مکمل طور پر دستبردار ہو۔ دوسری جانب ایران ان مطالبات کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتا ہے اور اس نے اپنی شرائط میں جنگی ہرجانہ، خلیج سے امریکی افواج کا انخلاء اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ جیسے نکات شامل کیے ہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے: یہ مذاکرات دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ دو متضاد نظریات کے درمیان ہیں۔ ایک طرف عالمی طاقت کا بیانیہ ہے، اور دوسری طرف علاقائی خودمختاری کا تصور۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے تنازعات کسی ایک نشست میں حل نہیں ہوتے۔
مزید یہ کہ مذاکرات کے دوران ہی میدان میں طاقت کا مظاہرہ بھی جاری رہا۔ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی سرگرمیاں اس بات کا واضح اشارہ تھیں کہ واشنگٹن صرف سفارتکاری پر انحصار نہیں کر رہا بلکہ دباؤ کی پالیسی بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتحال کو ناکامی قرار دیا جائے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر تجزیہ کار غلطی کرتے ہیں۔ بہت سے ناقدین فوری طور پر اس نتیجے کو ناکامی کہہ رہے ہیں، مگر یہ تجزیہ سطحی ہے۔
صحافی وسیم اکرم میو نے بجا طور پر کہا:
"یہ آپ سے کس نے کہا کہ مذاکرات شروع ہوتے ہی کامیاب ہو جاتے ہیں؟"
یہ جملہ دراصل پوری صورتحال کی درست عکاسی کرتا ہے۔ ایسے تنازعات جہاں دہائیوں کی دشمنی، عدم اعتماد اور جنگ شامل ہو، وہاں مذاکرات کا آغاز ہی سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے۔ ڈیڈ لاک، تناؤ اور سخت بیانات اس عمل کا لازمی حصہ ہیں، ناکامی نہیں۔
پاکستان کے کردار کو بھی حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ شہباز شریف اور عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا جسے امریکی قیادت نے بھی سراہا۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان نے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، حتمی حل نہیں۔ اصل فیصلے اب بھی امریکا اور ایران کو ہی کرنے ہیں۔
یہ مذاکرات اختتام نہیں بلکہ آغاز ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ معاہدہ کیوں نہیں ہوا، بلکہ یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ کیا ایران اپنی پوزیشن میں لچک دکھائے گا؟ کیا امریکا اپنے مطالبات نرم کرے گا؟ یا یہ تعطل جنگ کو مزید طول دے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں فوری نتائج کا تصور ایک فریب ہے۔ بڑے معاہدے وقت لیتے ہیں، اور اکثر ان کی بنیاد ایسے ہی نامکمل مذاکرات پر رکھی جاتی ہے۔
آخر میں بات سیدھی ہے: اسلام آباد میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا، مگر ایک دروازہ ضرور کھلا ہے۔ اور بعض اوقات تاریخ میں سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ بند دروازہ کھل جائے—چاہے اس کے پیچھے ابھی اندھیرا ہی کیوں نہ ہو۔
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Wasim Akram Journalist
*کالم: صحافت یا نمائش؟ فیصلہ آپ کریں**
کپڑوں پر بات ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے۔اور ہونی بھی چاہیے۔ کیونکہ کپڑے صرف جسم نہیں ڈھانپتے، وہ شخصیت، سنجیدگی اور پیشے کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ خاص طور پر جب بات صحافت جیسے باوقار شعبے کی ہو، تو یہاں ہر چیز کا ایک معیار ہوتا ہے۔لباس، انداز، گفتگو اور وقار۔
مگر آج کل ایک خطرناک رجحان تیزی سے اُبھر رہا ہے۔ کچھ لوگ صحافت کے نام پر ایسے لباس اور انداز اختیار کر رہے ہیں جو پیشہ ورانہ سنجیدگی سے زیادہ ذاتی نمائش کا تاثر دیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کوئی کیا پہن رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ وہ کہاں اور کس حیثیت میں پہن رہا ہے۔
جب کوئی خود کو صحافی یا اینکر کے طور پر پیش کرتا ہے، تو اس کی پہلی ذمہ داری اپنی ساکھ بنانا ہوتی ہے، نہ کہ خود کو موضوعِ بحث بنانا۔ ایسے شوخ، نمایاں اور غیر روایتی سوٹس جو توجہ صرف شخصیت پر مرکوز کر دیں، وہ خبر کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ناظر خبر سننے آتا ہے، نہ کہ لباس پر تبصرہ کرنے۔
یہ کہنا کہ “جو دل کرے پہنیں اور ماحول کی پروا نہ کریں” ایک حد تک ذاتی آزادی ضرور ہے، لیکن ہر آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔ صحافت میں یہ ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے، کیونکہ یہاں آپ صرف خود کی نہیں بلکہ پورے ادارے اور پیشے کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔
اگر مقصد واقعی صحافت ہے، تو لباس میں سادگی، وقار اور موقع کی مناسبت نظر آنی چاہیے۔ لیکن اگر مقصد صرف توجہ حاصل کرنا، وائرل ہونا یا لوگوں کی گفتگو کا مرکز بننا ہے، تو پھر یہ صحافت نہیں۔یہ محض نمائش ہے۔
اور سچ یہی ہے کہ جب کوئی خود کو جان بوجھ کر بحث کا موضوع بناتا ہے، تو یہ پیشہ ورانہ کمزوری کی علامت ہوتی ہے، نہ کہ طاقت کی۔
آخر میں بات سیدھی سی ہے:
**صحافت میں پہچان آپ کی بات سے بنتی ہے، نہ کہ آپ کے لباس سے۔**
@followers@highlightGharida Farooqi
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies