Istakhara & Rohani Ilaj

You are watching "Istikhara & Rohani Ilaj" our youtube channel. in this channel we present the islamic education also offer "Rohani Istikhara" & "Rohani Ilaj".


Istakhara & Rohani Ilaj

*ماہِ رمضان کے فضائل*

(۱)۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اذادخل شھر رمضان فتحت ابواب السماء وغلقت ابوا ب جھنم وسلسلت الشیاطین۔ (البخاري:۱۷۶۶)
جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
(۲)۔۔۔ ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ حضرت رسول اللہ نے فرمایا:
اذاجاء رمضان فتحت ابواب الجنۃ ۔ ( البخاری:۱۷۶۵/مسلم:۱۷۹۳)
جب رمضان آتاہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
(۳)۔۔۔ حضرت عبادہ ابن الصامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جب کہ رمضان آچکا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’رمضان کا مہینہ آگیا ہے جو بڑی برکت والاہے، جس میں اللہ تعالیٰ تمہیں (اپنی رحمت سے) ڈھانپ لیتے ہیں، تم پر رحمت نازل فرماتے ہیں، خطاؤں کو معاف کرتے اور دعاؤں کو قبول کرتے ہیں اور تمہارے تنافس (ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھنے ) کو دیکھتے ہیں اور ملائکہ پر فخر فرماتے ہیں، پس تم اللہ تعالیٰ کو نیکی دکھاؤ، بد نصیب وہ ہے جواس مہینہ میں بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہ جائے‘‘ ۔(مسندالشامیین للطبراني:۳/۲۷۱،الترغیب:۲/۹۹)
(۴)۔۔۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر دن ورات میں (جہنم کے) قیدی آزاد کیے جاتے ہیں، یعنی رمضان میں اور ہر مسلمان کے حق میں ہردن ورات میں ایک دعا ضرور قبول کی جاتی ہے‘‘۔ ( الترغیب:۲/ ۱۰۳)
(۵)۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
'' تمہارے پاس ماہ رمضان آچکا ہے، وہ ماہ مبارک جس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں، اس ماہ میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شریر شیاطین کو بیڑی ڈال دی جاتی ہے، اس ماہ میں ایک ایسی رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہترہے، جو اس کے خیر سے محروم کردیا گیا وہ واقعی محروم ہوگیا۔'' (نسائی:۲۱۰۶، مسند احمد : ۸۹۷۹، الترغیب:۲/۹۸)

3 days ago | [YT] | 2

Istakhara & Rohani Ilaj

عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر

اللہ تعالیٰ بندے کو اپنی محبت عطا کرنے سے پہلے اُسے مجاز کے راستے سے گزارتا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنی محبت ہر بندے کو عطا نہیں کر دیتا یہ تو وہ گنے چنے خوشنصیب لوگ ہوتے ہیں جنہیں وہ خود اپنی محبت کے لیے چنتا ہے۔۔۔۔

گویا مجاز کے راستے پر انسان کو چلانا ایک طرح سے انسان کو محبت کا معنی سمجھانا ہے ۔۔۔ انسان کو محبت کرنی سکهای جاتی ہے۔ اور جب انسان اس راستے پر قدم رکھ لیتا ہے تو وہ واپسی کا راستہ بہت پیچھے چھوڑ آتا ہے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ محبت انسان کو بالکل اندھا کر دیتی ہے اور یہ بات بالكل حقيقت ہے جہاں انسان کو اپنے محبوب کے آگے کچھ بھی نظر نہیں آتا اور در حقیقت یہی محبت کی اصل منزل ہوتی ہے۔ آپ کو ایک مثال دے کر سمجھاتی ہوں مجنوں جب لیلہ کی محبت میں اس حد تک پہنچ گیا کہ اُسے ہر جانب لیلہ ہی نظر آنے لگی تو ایک دن وہ جنگل کی طرف جا رہا تھا تو راستے میں کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے مجنوں اُن کے آگے سے گزر گیا جب ان لوگوں نے سلام پھیرا تو مجنوں کو مارنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہیں نظر نہیں آ رہا تھا کہ ہم نماز پڑھ رہے تھے جس پر مجنوں نے جواب دیا کہ میں تو اپنے محبوب کی یاد میں تھا کہ جس کے سامنے مجھے کچھ نظر ہی نہیں آیا ۔۔۔ تم یہ کیسی نماز پڑھ رہے تھے کہ محبوب تمہارے سامنے تھا اور تمہیں میں نظر آ گیا ۔۔۔؟؟؟؟ اللہ اکبر

جب انسان محبت کی اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ سوائ محبوب کے اُسے کچھ نظر نہیں آتا ، کہ جب اُس کا اپنے محبوب کے بغیر گزارا مشکل ہو جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اُس بندے کو اُسی محبوب کے ہاتھوں توڑتا ہے ، اُس کا دل چکنا چور کر دیتا ہے۔۔۔ گویا اُس کی روح چھلنی ہو جاتی ہے ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ اُس بندے کے دل کو دوبارہ جوڑتا ہے لیکن اس بار جوڑتا ہے اپنی محبت سے ۔۔۔ اُس کی روح کو تسکین بخشتا ہے اپنے قرب سے ۔۔۔ اپنے دیدار سے۔۔۔ مجاز میں انسان ہر لمحہ محبوب کے ہجر میں تڑپتا ہے لیکن اللہ س سے محبت کے اس سفر میں نہ ہجر کا خوف نہ ہی جدائ کا ڈر۔ اسی بنا پر عشق الهی کامل عشق کہلاتا ہے ۔ اور یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان کی تلاش ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔ کیونکہ وہ اپنے حقیقی مقام تک پہنچ چکا ہوتا ہے جس کے لیے اُس کی تخلیق کی گئی ہوتی ہے۔۔۔ اور اس مقام تک ہر کوئ نہیں پہنچتا ۔

🕊️🫀🖤

1 week ago | [YT] | 25

Istakhara & Rohani Ilaj

غلیظ ترین کھانا.. میرا ایک فوتگی والے گھر جانا ھوا، کیا دیکھتا ھوں کہ ایک لڑکا بہت ہی زیادہ رو رہا ھے
معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ جو فوت ہوئیں ہیں وہ رونے والے کی والدہ تھیں
میں ھکا بکا ایک طرف کھڑا ہو کے سوچنے لگا کہ بھرپور جوانی کے وقت اتنا بے رحم دکھ اس نوجوان کو آدھا کر دے گا
مجھ سے اس کا رونا دیکھا ہی نہیں جا رہا تھا ، اس کی چیخیں لگتا تھا قیامت لے آئیں گی
وہ اکلوتا بیٹا تھا اپنے ماں باپ کا

اچانک ایک بھائی صاحب آگے آتے ہیں وہ اس سے کھانے کا مینیو پوچھتے ہیں
میں حیران ہو جاتا ھوں کہ اس حالت میں وہ کھانا کیسے کھا سکتا ھے ،اس سے تو صحیح سے بولا بھی نہیں جا رہا
بعد میں پتہ چلا کہ وہ ان لوگوں کے کھانے کی بات کر رہے تھے جنہوں نے گھر افسوس کرنے آنا ھے

یہ ھو کیا رہا ھے ،یہ چل کیا رہا ھے
ان کے گھر کوئی شادی یا سالگرہ کا فنکشن نہیں ھے بلکہ ایک لڑکے کی جنت اسے چھوڑ کے چلی گئی ھے
بجائے اس چیز کے کہ ہم اس گھر کا حوصلہ بنیں اس گھر کے دکھ میں شریک ھو جائیں الٹا وہ لوگ ہماری گندی اور کبھی نہ مٹنے والی بھوک کا بندو بست کرنے میں لگ گے ہیں
کیا ہم اس قدر بے حس اور گھٹیا قوم ہیں کہ میت والے گھر بھی کھانا پینا نہیں چھوڑتے

اور پھر جنازے کہ بعد گھناونا کھیل شروع ھوا ایک ایسا کھیل جسے دیکھ کے کسی غیرت مند کو موت آ جائے مگر ہمیں نہیں آتی

وہی لڑکا جس کی دنیا لٹ گئی برباد ھو گئی ہاں ہاں وہی لڑکا روتی آنکھوں کے ساتھ ان بھوکی ننگی زندہ لاشوں ،جن کی عقلوں پہ ماتم کرنا چاہیے ان کو کھانا دے رہا ھے کیا ان کو شرم نہیں آتی کیوں یہ غیرت سے مر نہیں جاتے

پھر میرے کانوں نے سنا کہ ایک آدمی نے اسی لڑکے کو آواز دے کے کہا کہ بھائی یہ پلیٹ میں لیگ پیس ڈال کے لانا
اف میرے خدا یہ کون لوگ ہیں جن کے پیٹ نہیں بھرتے ،ایسے لوگ دنیا میں ہی کیوں ہیں یہ مر کیوں نہیں جاتے
شرم نہی آتی اسی سے لیگ پیس مانگتے جس کی ماں مر گئی ھے
بجائے اس کے کہ تمہارا ہاتھ اس کے کندھے پہ ھو اور حوصلہ دے رہا ھو ، تمہارا ہاتھ لیگ پیس کو پڑ رہا ھے

کسی دانا آدمی کا قول یاد آ گیا کہ
''سب سے غلیظ ترین کھانا وہ ھے جو ہم میت والے گھر سے کھاتے ہیں ''

ہمیں ترس یا رحم نہیں آتا یہ دیکھ کے بھی کہ لوگ روتے ھوۓ کھانا بانٹ رہے ہیں

میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو میت والے گھر سے ناراض ھو کے چلے جاتے ہیں کہ ہمیں کھانا نہیں دیا ،ہمیں کھانا نہیں پوچھا کسی نے
یہی گھٹیا لوگ کھا کھا کے پھر گندی ڈکاریں مارتے ہیں اور اسی میت والے گھر ہنستے بھی ہیں، تمیز تہذیب کی سبھی حدیں ان لوگوں نے پار کی ہوتی ہیں
ان کو کسی سے کوئی سرو کار نہیں ھے انہیں مطلب ھے تو بس لیگ پیس سے

میں ہاتھ جوڑتا ھوں کہ خدا کے لئے میت والے گھر کا حوصلہ بنیں ،ان کے غم میں شریک ہوں ،رونا نہیں آتا تو رونے والا منہ بنا لیں

الله ہم سب کو نیک عمل کرنے کی توفیق دے

1 week ago | [YT] | 1

Istakhara & Rohani Ilaj

اپنے نام کے پہلے حرف کے مطابق درج تعداد میں نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھیں: Aur comment main Harf k sath done likhain

ا 👈🏻 ¹⁰ درودشریف
ب 👈🏻 ¹⁵ درودشریف
پ 👈🏻 ⁵ درودشریف
ت 👈🏻 ¹⁷ درودشریف
ث 👈🏻 ²⁰ درودشریف
ج 👈🏻 ²² درودشریف
ح 👈🏻 ²⁵ درودشریف
خ 👈🏻 ⁹ درودشریف
د 👈🏻 ³⁰ درودشریف
ر 👈🏻 ³¹ درودشریف
ز 👈🏻 ¹⁹ درودشریف
س 👈🏻 ³ درودشریف
ش 👈🏻 ³² درودشریف
ص 👈🏻 ¹⁸ درودشریف
ط 👈🏻 ⁹ درودشریف
ظ 👈🏻 ³ درودشریف
ع 👈🏻 ¹³ درودشریف
غ 👈🏻 ¹⁴ درودشریف
ف 👈🏻 ² درودشریف
ق 👈🏻 ³² درودشریف
ک 👈🏻 ¹² درودشریف
گ 👈🏻 ²³ درودشریف
ل 👈🏻 ¹¹ درودشریف
م 👈🏻 ²² درودشریف
ن 👈🏻 ²⁶ درودشریف
و 👈🏻 ²¹ درودشریف
ه 👈🏻 ³¹ درودشریف
ی 👈🏻 ³⁷ درودشریف

سوچیں کہ اگر ہر کوئی اسے مختلف گروپوں میں شیئر کرے تو اللّٰه تعالیٰ ہمیں اور آپ کو کتنا اجر عطا کرے گا!

1 week ago (edited) | [YT] | 1

Istakhara & Rohani Ilaj

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ایک ہمہ گیر شخصیت — عمل، کردار اور اخلاص کی تصویر

سعید احمد انور چشتی رحمۃ اللہ علیہ

یوں تو ہر انسان کی زندگی ہمیں کوئی نہ کوئی سبق ضرور دیتی ہے، مگر کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی پوری زندگی خود ایک درسگاہ بن جاتی ہے۔ نیک اور صالح والدین یقیناً اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور خصوصی کرم ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی سایۂ رحمت ہوتی ہے اور ان کی جدائی انسان کو اندر سے خالی کر دیتی ہے۔

ہم سب اپنی کمیوں اور کوتاہیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کسی شخصیت کا مکمل تجزیہ کرنا آسان نہیں، لیکن میں یہ سب کسی محقق یا مبصر کی حیثیت سے نہیں لکھ رہا، بلکہ ایک بیٹے کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں — ایک ایسا بیٹا جس نے اپنے والد کو قریب سے دیکھا، ان کی خدمت کی، ان کے ساتھ وقت گزارا، اور ان کی زندگی کے ہر رنگ کو محسوس کیا۔

مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کی خدمت کا خاص موقع عطا فرمایا۔ روزمرہ کے معمولات میں ان کے پاؤں دبانا، مالش کرنا، تیمارداری کرنا میرے لیے سعادت تھی۔ بیماری اور فالج کے بعد جب وہ گر گئے اور ہڈی ٹوٹ گئی تو میں خود انہیں نہلاتا، ان کے ناخن کاٹتا، اور میرا بیٹا ان کی داڑھی سنوارتا تھا۔ یوں تین نسلیں ایک ہی خدمت میں جڑی رہیں۔ اس قربت نے مجھے ان کی شخصیت کو صرف دیکھنے ہی نہیں بلکہ سمجھنے کا موقع دیا۔

اپنی سینتالیس سالہ زندگی میں میں نے اپنے والدِ محترم رحمہ اللہ کو ہمیشہ عمل کا پیکر پایا۔ وہ باتوں سے نہیں، کردار سے تعلیم دیتے تھے۔ ان کی خاموشی بھی نصیحت ہوتی تھی۔

ان کی زندگی کا مرکز مسجد اور نماز تھی۔ سردی ہو یا گرمی، بارش ہو یا آندھی، کمزوری ہو یا بیماری — 82 برس کی عمر میں بھی نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنا ان کا معمول تھا۔ اذان کی آواز سنتے ہی جیسے ان میں نئی طاقت آ جاتی۔ مسجد سے ان کا تعلق صرف عبادت کا نہیں بلکہ عشق کا تھا۔

قرآنِ پاک کی روزانہ تلاوت نے ان کی زندگی کو نور سے بھر رکھا تھا۔ صبح کا آغاز تلاوت سے اور رات کا اختتام ذکر و درود سے ہوتا۔ سچ بولنا اور سچوں کا ساتھ دینا ان کی فطرت تھی۔ حلال کمائی کو وہ عبادت سمجھتے تھے۔ ہر لقمہ حلال کھانا اور کھلانا ان کی پہچان تھی۔ اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، چاہے نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

وعدے کے انتہائی پابند تھے۔ مالی معاملات میں غیر معمولی احتیاط کرتے، ہر لین دین تحریری رکھتے اور قرض لینا سخت ناپسند کرتے تھے۔ اگر کبھی مجبوری میں قرض لیا بھی تو وقت سے پہلے ادا کر دیتے۔ اللہ کا شکر ہے کہ وفات کے وقت تک وہ کسی ایک روپے کے بھی مقروض نہ تھے۔ پوری زندگی نہ کسی کو غلط راستہ دکھایا اور نہ کسی برائی کی حمایت کی۔

ان کی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے کبھی جھگڑا نہیں کیا۔ ہمیشہ دل جوڑنے اور صلح کروانے کی کوشش کی۔ نہ وہ کسی سے ناراض رہے اور نہ کوئی ان سے ناراض۔ رشتہ داروں سے رابطہ رکھنا، حال پوچھنا اور تعلق نبھانا ان کی عادت تھی۔ امیروں سے کم اور غریبوں سے زیادہ محبت کرتے۔ جس کی ضرورت محسوس کرتے، خاموشی سے مدد کر دیتے تاکہ اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

وہ ہر عمر کے انسان سے اس کے درجے کے مطابق پیش آتے۔ بچوں کے لیے شفقت، بڑوں کے لیے ادب اور ہم عمر لوگوں کے لیے اخلاص۔ ہر شخص انہیں اپنا سمجھتا تھا۔ کوئی انہیں بھائی کہتا، کوئی چچا، کوئی بزرگ اور کوئی محسن۔

حق بات کہنے میں کبھی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے۔ اصلاح کی نیت سے سخت بات بھی کہہ دیتے، مگر دل میں کسی کے لیے میل نہیں رکھتے تھے۔ مہمان نوازی ان کی فطرت تھی۔ مہمان کو عزت دینا، خاطر تواضع کرنا، اور بعض اوقات واپسی کا کرایہ اور خرچ بھی دینا ان کی عادت تھی۔

وہ اکثر فرمایا کرتے تھے:
"مریض کو مطمئن کرنے سے پہلے اپنے ضمیر کو مطمئن کرو، کیونکہ مریض تو تمہارے جھوٹ سے بھی مطمئن ہو جاتا ہے۔"
یہ صرف نصیحت نہیں بلکہ ان کی زندگی کا اصول تھا۔

نیک لوگوں کا بے حد ادب کرتے، چاہے عمر میں چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ ہر حال میں شکر گزار رہتے۔ سادہ مزاج، قناعت پسند اور باوقار زندگی گزاری۔ روزانہ اخبار پڑھنا، کیلنڈر کی تاریخ بدلنا اور ڈائری لکھنا کئی دہائیوں پر محیط ان کا مستقل معمول تھا — ایک منظم اور بااصول زندگی کی علامت۔

تقریباً پینتالیس سال تک “نادِ علی” اور درودِ پاک ان کا مستقل وظیفہ رہا۔ اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ غلام قطب الدین فریدی چشتی نظامی علیہ الرحمہ سے بے پناہ عقیدت رکھتے۔ اہلِ بیتِ اطہار اور واقعۂ کربلا کا ذکر سنتے ہی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ حضور اکرم ﷺ سے محبت اور ادب ان کی روح میں رچا بسا تھا۔

ان کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ شاید ان کی آخری گھڑیاں تھیں۔ وفات کے وقت ہلکی آواز میں کچھ پڑھ رہے تھے۔ جب قریب ہو کر سنا تو ان کی زبان پر درودِ پاک کے مبارک الفاظ جاری تھے۔ یہ منظر میری زندگی کا سب سے قیمتی اور ایمان افروز لمحہ ہے — جیسے پوری زندگی کا نچوڑ اسی ایک لمحے میں سمٹ آیا ہو۔

ایسی موت یقیناً نصیب والوں کو ملتی ہے۔

یہ تھے میرے والدِ گرامی رحمۃ اللہ علیہ — ایک ایسی ہستی جو خاموشی سے جیتی رہی، خدمت کرتی رہی، اور جاتے جاتے بھی ہمیں صبر، شکر، سچائی، عبادت اور انسانیت کا سبق دے گئی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس تحریر کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔ آمین۔
(انعام )

2 weeks ago | [YT] | 55

Istakhara & Rohani Ilaj

*اللہ کی محبت کی ادائیں **

💓محبت ہی محبت ہے💓

اللہ کی محبت کی اداؤں پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ
اللّٰه ﷻکی ایک ایک خوبی ایسی ہے کہ جس سے اس کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے اس کا پل بھر میں ایک آنسو پہ زندگی بھر کے گناہوں کو معاف کر دینا محبت ہی محبت ہے😊🥰🌸
اس کا ہر پل آپ کا خیال رکھنا محبت ہی محبت ہے😊🥰🌸
اس کا یوں آپ پہ نظرِ خاص رکھنا محبت ہی محبت ہے 😊🥰🌸
توبہ کرنے پہ، اس کا تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دینا محبت ہی محبت ہے😊🥰🌸
اس کا بہت زیادہ قران پاک میں نصیحتیں کرنا اور تمہیں آگ سے بچانا محبت ہی محبت ہے😊🥰🌸
اس کا یوں بندے کی قدردانی کرنا محبت ہی محبت ہے😊🥰🌸
اس کا یوں آپ کو،آپ کے گناہوں کو سمیٹ چن لینا محبت ہی محبت ہے😊🥰🌸
اس کا ہر پل کا ساتھ محبت ہی محبت ہے😊🥰🌸
اس کا بندے کو 70 ماں سے بڑھ کر پیار کرنا محبت ہی محبت ہے 😊🥰🌸

🌺{صِبْغَةَ اللّٰهِ:اللّٰه کا رنگ۔}💐

2 weeks ago | [YT] | 0

Istakhara & Rohani Ilaj

شبِ برات کے 6 خصوصی نوافل
مغرب کی نماز کے فوری بعد
دو رکعت نفل برائے درازئ عمر
ایک دفعہ سورہ یٰسین کی تلاوت
پھر دو نفل کشادگئ رزق کے
پھر ایک دفعہ سورہ یٰسین
پھر دو نفل حفاظتِ آفات و بلیات
پھر ایک دفعہ سورہ یٰسین
اختتام پر دعا مانگ لیں
ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد تین بار سورہ اخلاص کی تلاوت کرنی ہے

2 weeks ago | [YT] | 1

Istakhara & Rohani Ilaj

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

تدبّر:
انسان اپنے رب سے یہ دعا مانگتا ہے کہ اسے اُن راستوں پر چلایا جائے جو سراسر خیر، عدل، سچائی اور اللہ کی رضا کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ دعا بندے کے دل کی اُس بےچینی کو ظاہر کرتی ہے جو غلطی، لغزش اور گمراہی سے بچنا چاہتا ہے۔ “غَیْرِ المَغضُوبِ عَلَیْہِمْ” کہہ کر بندہ اللہ سے یوں پناہ مانگتا ہے کہ یا رب! میرا دل کبھی ایسا نہ بنے کہ تیرا پیغام سامنے ہوتے ہوئے بھی میں ضد، حسد یا خواہشِ نفس کے باعث اسے چھوڑ دوں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہدایت صرف ایک خواہش نہیں بلکہ ایک مسلسل طلب ہے—ایسی طلب جس میں بندہ ہر لمحہ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس کی ناراضگی سے ڈرتا ہے۔

“وَلَا الضَّآلِّینَ” میں انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ اسے صرف قوتِ عمل ہی نہیں چاہیے، بلکہ صحیح علم بھی چاہیے—ایسا علم جو دل کو سیدھا رکھے اور عمل کو بھٹکنے نہ دے۔ گمراہی کا راستہ اکثر نرم، خوبصورت اور دل کو بھانے والا لگتا ہے، مگر اس کا انجام خالی پن اور دوری ہوتا ہے۔ اس آیت میں ایک مؤمن کی روحانی حساسیت جھلکتی ہے: وہ صرف غلط کاموں سے نہیں، غلط سمتوں سے بھی ڈرتا ہے۔ یوں یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی اُن قدموں میں ہے جو اللہ کے نور کے ساتھ چلیں، اور اصل نقصان اُن لمحوں میں ہے جہاں دل راستہ کھو دے۔ یہ دعا ہر نماز میں بار بار دہرا کر انسان اپنے رب سے جڑا رہتا ہے—اور یہی جڑاؤ اصل ہدایت ہے۔

2 weeks ago | [YT] | 1

Istakhara & Rohani Ilaj

*سلامت رہیں وہ ہاتھ جو* *حوصلہ افزائی کے لیے*
*حرکت میں آتے ہیں*🤲

2 weeks ago | [YT] | 47