بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر انقلاب کے مشیرر ایڈمرل علی شمخانی نے لبنان کے ٹی وی چینل المیادین کے ڈائریکٹر غسان بن جدو کے ساتھ اپنے تازہ ترین انٹرویو میں فوجی وردی زیب تن کرکے، شرکت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایران ممکنہ جنگ کے لئے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو ایران یقیناً "اسرائیل" پر حملہ کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ تہران دو شرائط پر امریکہ سے مذاکرات کے لئے تیار ہے اور اگر دھمکیوں سے پاک مفاہمت کا ماحول پیدا ہو تو جوہری معاملے پر مفاہمت ممکن ہے۔
انھوں نے جوہری معاملے کے علاوہ کسی دوسرے موضوع پر مذاکرات کے امکان کو بالکل اور قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ اس موضوع پر بھی مذاکرات دو شرائط سے مشروط ہیں۔
انھوں نے افزودہ یورینیم کی بیرون ملک منتقلی کی کوئی وجہ نہیں ہے اور مفاہمت کی ایک اہم بنیاد "ایٹمی ہتھیاروں کی ممانعت کے بارے میں رہبر معظم فتویٰ" ہے۔
حصۂ دوئم:
غسان بن جدو: لیکن کوئی حل تو نکالا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، روسی طیارے آ کر یورینیم جمع کر سکتے ہیں اور وہاں ذخیرہ کر سکتے ہیں؟
ایڈمرل شمخانی: ہم اس خیال کو آگے بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
ہم نہیں جانتے کہ کتنا افزودہ یورینیم باقی ہے
غسان بن جدو: امریکہ دھمکیوں کی حالت میں ہے اور ایران بے خوفی کا اعلان کر رہا ہے، اور ساتھ ہی کہہ رہا ہے کہ جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے لئے بھی تیار ہے! تو کیا اس صورت حال میں ماکرات کا امکان ہے؟
ایڈمرل شمخانی: ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ کتنا افزودہ یورینیم باقی بچا ہے، کیونکہ یہ ذخائر ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور اس کے بذات خود خطرناک ہیں چنانچہ ہم نے اب تک اسے ہٹانے کی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ بنیادی طور پر، ہم باقی ماندہ افزودہ یورینیم کی مقدار کا تعین نہیں کر سکتے۔ لہٰذا، ہم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ اس مقدار کے محفوظ اور خطرے سے پاک تخمینے کا راستہ تلاش کرنے کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں۔
تاہم، اسلامی جمہوریہ ایران کا بنیادی یقین یہ ہے کہ: 60 فیصد افزودہ یورینیم، ـ محض ہمارے دشمنوں کے ـ اسلامی جمہوریہ کے خلاف ـ منصوبوں اور سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہے اور دوسری بات یہ کہ، مذاکرات اور گفتگو کی تیاری کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا، اس شعبے میں مذاکرات کا امکان موجود ہے۔ جیسا کہ میں نے رہبر معظم کے فتویٰ کے بارے میں وضاحت کی، آپ کی تشویش دور کرنے کا سب سے آسان اور محفوظ ترین راستہ ہے۔ ملک کے اندر، ہم نگرانی کے تحت، تیز اور خطرے سے باہر، اقدامات کر سکتے ہیں۔
غسان بن جدو: ترکیہ میں کچھ ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے ہیں کیا امریکی فریق سے براہ راست ملاقات کا امکان بھی ہے؟
ایڈمرل شمخانی: جی ہاں۔ "براہ راست یا بالواسطہ"؛ ہمارے پاس ملاقاتوں اور مذاکرات کا ایک سلسلہ ہے اور اگر مذاکرات ان شرائط کے ساتھ شروع ہوں جو میں نے بتا دیں، اور دو اہم شرائط، یعنی دھمکیوں سے اجتناب اور غیر منطقی مطالبات سے پرہیز؛ تو فطری طور پر اس کا امکان موجود ہے۔
غسان بن جدو: براہ راست یا بالواسطہ؟
ایڈمرل شمخانی: بالواسطہ مذاکرات میں ہم دیکھیں گے کہ ماحول کیسا ہے اور آیا مفاہمت کا ماحول موجود ہے یا نہیں؟ اگر یہ ماحول بن گیا تو بہت جلد، صورت حال بالواسطہ سے براہ راست مذاکرات میں بدل سکتی ہے۔
مذاکرات صرف جوہری مسئلے کے بارے میں
غسان بن جدو: تو مذاکرات بالواسطہ ہوں گے؛ اگر مطلوبہ نتیجہ حاصل ہؤا تو آپ براہ راست مذاکرات کی طرف چلے جائیں گے۔ امید ہے کہ براہ راست مذاکرات عملی نتائج اور سنجیدہ معاہدے تک پہنچیں گے۔ کیا یہ معاہدہ غیر جوہری مسائل کا احاطہ کر سکتا ہے؟
ایڈمرل شمخانی: ہرگز نہیں، صرف جوہری مسئلہ۔
غسان بن جدو: جناب خامنہ ای نے کل ایک بہت اہم بات کہی...
ایڈمرل شمخانی: مذاکرات کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ صرف جوہری مسئلے تک محدود رہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعلانیہ اظہار کیا کہ بحث کا مرکزی موضوع "جوہری مسئلہ" ہے۔
علاقائی جنگ کیسی ہوگی؟
غسان بن جدو: جناب امام خامنہ ای [حفظہ اللہ] نے کہا کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو علاقائی ہوگی۔ آپ بطور ایک فوجی، بحریہ کے ایڈمرل اور نیز بطور سیاسی اسٹراٹیجسٹ اور رہبر انقلاب کے سیاسی مشیر، شکل و مواد کے لحاظ سے علاقائی جنگ سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ پھیلے گی اور پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ تمام علاقے نشانہ بنیں گے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ اتحادی بھی اس میں کود پڑیں گے؟
ایڈمرل شمخانی: اگر آپ اس تصادم میں دو بنیادی نکات دیکھتے ہیں، جیسا کہ بیان کیا گیا، تو میں ان دو نکات پر زور دینا چاہتا ہوں: موجودہ صورت حال - جنگ کا محدود تصادم و تنازع کا پورے پیمانے پر جنگ بدل جانا، جو وسیع جغرافیائی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اسلامی جمہوریہ ایران کی حدود سے بہت آگے تک اور اس کی وجہ دو بنیادی عوامل ہیں: پہلا عامل، دشمن کی فوجی تعیناتی ہے۔ اگر آپ خطے میں دشمن کی وسیع تعیناتی اور مورچہ بندی کو دیکھیں، اگر آپ اسے فوجی نقشے پر پرکھیں، تو آپ دیکھیں گے کہ یہ تعیناتی اور مورچہ بندی اس خطے کے گرد اس دور افتادہ ترین نقطے تک پر مشتمل ہے جہاں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دھمکیاں آتی ہیں۔
لیکن اگر ہم اپنی تسدید (Deterrence) اور ردعمل کو اپنی سرزمین تک محدود رکھنا چاہیں، تو یہ فوجی لحاظ سے ناممکن ہے۔ یہ پہلا نکتہ ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ، ہم نے سیکھا ہے کہ جون کی 12 روزہ جنگ میں ضبطِ نفس کرنا اور صبر و تحمل سے کام لینے کی پالیسی ہمارے فائدے میں نہیں تھی۔ یہ بات تین بنیادی مسائل سے ثابت ہوئی ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو بالآخر ان کی شکست کا باعث بنیں گی اور انہیں اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کرنے دیں گی۔
ایران 12 روزہ جنگ میں اپنی ضبطِ نفس کی پالیسی کو نہیں دہرائے گا
غسان بن جدو: تقریباً تمام خلیجی اور عرب ممالک خطے میں جنگ کے وقوع پذیر ہونے کے خلاف اپنی مخالفت یا عدم رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں۔ شاید ان کا یہ موقف ضرورتاً ایران کے حق میں نہ ہو بلکہ خطے کے حق میں ہو؛ لیکن فرض کریں کہ جنگ ہو جاتی ہے اور خطے میں فوجی اڈے موجود ہیں۔ تو جناب آپ کیا کریں گے؟ جی ہاں، آپ نے مجھے کسی حد تک جواب دے دیا، لیکن کیا آپ واضح طور پر خطے کے تمام امریکی اڈوں پر حملہ کریں گے؛ نہ صرف خلیج فارس میں، بلکہ ایران کے شمال میں بھی، مثلاً آذربائیجان میں؟
ایڈمرل شمخانی: "جی ہاں، بہت سے ممالک نے بیانات جاری کئے اور سب سے پہلے اپنی سرزمین سے ممکنہ خطرات روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اعلان کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو اسلامی جمہوریہ پر حملہ کرنے کے لئے استعمال ہونے نہیں دیں گے۔ البتہ، گذشتہ سال جون کی جنگ میں، ہم نے یہ بات دیکھی اور ہمارے پاس درست معلومات اور اعدادوشمار موجود ہیں کہ آپ جن کچھ علاقوں کا ذکر کر رہے ہیں، ان میں سے عملاً ہمیں خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لہٰذا، ہم صبر و تحمل اور ضبطِ نفس کا یہ سلسلہ دہرانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور ہم نے خطے میں کچھ کو اطلاع دے دی ہے کہ ہم اپنا ہاتھ روکیں گے نہیں اور ہم دستاویزی طور پر دوسروں کو بھی اطلاع دینا چاہتے ہیں۔ لہٰذا، اسی وجہ سے، خطے کے ممالک کی جنگ کو روکنے کی خواہش ایک ایسی چیز ہے جسے ہم مخلصانہ کوششیں سمجھتے ہیں اور ہم سب کو خطے میں اس واقعے اور تباہی کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ وہ جو جنگ شروع کرنا چاہے، وہ امریکہ نہ ہو!"
اگر امریکہ حملہ کرے گا تو ایران یقیناً "اسرائیل" کو مارے گا؟
غسان بن جدو: جناب امیرالبحر! ہر کوئی ہمیشہ "اسرائیل" کے بارے میں بات کرتا ہے، چاہے اس جنگ میں اس کے کردار کے بارے میں ہو یا اس کے سامنے آنے والے خطرے کے بارے میں۔ تاہم، آپ کے چند دن پہلے کے اس بیان نے ـ کہ 'اگر ہم پر حملہ ہؤا تو ہم "اسرائیل" پر براہ راست حملہ کریں گے'، ـ واقعی میڈیا، سیاست دانوں اور فوجی اہلکاروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور انہوں نے واقعی اسے سنجیدہ لیا ہے۔ لہٰذا، سوال یہ ہے کہ اگر ایران پر امریکی حملہ ہؤا تو کیا وہ "اسرائیل" سے انتقام لے گا؟
ایڈمرل شمخانی: ہم اہداف اور فلسفوں کی ایک دوسرے سے علیحدگی کو سامنے نہیں رکھتے۔ علیحدگی کے لئے کوئی دفتر نہیں ہے۔ "اسرائیل" اور امریکہ دو مختلف وجود نہیں ہیں؛ وہ ایک ہی ہیں۔
International Ahlul Bayt (AS) News Agency - ABNA || Advisor to the Leader of the Revolution, Admiral Ali Shamkhani, participated in his latest interview with Ghassan Ben Jaddo, director of the Lebanese TV channel Al-Mayadeen, wearing a military uniform.
He said that Iran is fully prepared for a possible war and that if the US attacks, Iran will definitely attack "Israel".
He said that Tehran is ready for negotiations with the US on two conditions and that if an atmosphere of understanding free of threats is created, then an understanding on the nuclear issue is possible.
He completely and categorically rejected the possibility of negotiations on any issue other than the nuclear issue, emphasizing that negotiations on this issue are also subject to two conditions.
He said that there is no reason for the transfer of enriched uranium abroad and that an important basis for the understanding is the "Fatwa of the Supreme Leader on the Prohibition of Nuclear Weapons".
Part 2:
Ghassan Ben Jaddo: But a solution can be found. For example, could Russian planes come and collect uranium and store it there?
Admiral Shamkhani: We have no intention of pursuing this idea.
We do not know how much enriched uranium is left
Ghassan Ben Jaddo: The US is in a state of threats and Iran is declaring its insecurity, and at the same time saying that it is ready for negotiations about the nuclear program! So is there a possibility of a coup in this situation?
Admiral Shamkhani: We do not even know how much enriched uranium is left, because these deposits are buried under the rubble and are dangerous in themselves, so we have not taken any action to remove them yet. Basically, we cannot determine the amount of enriched uranium remaining. Therefore, we are negotiating with the International Atomic Energy Agency to find a way to estimate this amount safely and without risk.
However, the fundamental belief of the Islamic Republic of Iran is that: 60 percent enriched uranium is only to counter the plans and conspiracies of our enemies against the Islamic Republic, and secondly, as a means of preparing for negotiations and talks. Therefore, there is a possibility of negotiations in this area. As I explained about the Supreme Leader's fatwa, it is the easiest and safest way to address your concerns. Inside the country, we can take measures under supervision, quickly and without risk.
Ghassan Ben Jaddo: There have been some meetings and negotiations in Turkey. Is there a possibility of a direct meeting with the American side?
Admiral Shamkhani: Yes. "Directly or indirectly"; We have a series of meetings and negotiations, and if the negotiations start with the conditions that I have outlined, and two important conditions, namely avoiding threats and illogical demands; then naturally there is a possibility of this.
Ghassan bin Jaddo: Direct or indirect?
Admiral Shamkhani: In indirect negotiations, we will see what the atmosphere is like and whether there is an atmosphere of understanding or not? If this atmosphere is created, then very soon, the situation can change from indirect to direct negotiations.
Negotiations only on the nuclear issue
Ghassan bin Jaddo: So the negotiations will be indirect; if the desired result is achieved, you will move to direct negotiations. Hopefully, direct negotiations will lead to practical results and a serious agreement. Can this agreement cover non-nuclear issues?
Admiral Shamkhani: Absolutely not, only the nuclear issue.
Ghassan bin Jaddo: Mr. Khamenei said a very important thing yesterday...
Admiral Shamkhani: One of the conditions for the negotiations is that they should be limited to the nuclear issue. He made it clear that the main topic of the discussion was the "nuclear issue".
What will a regional war be like?
Ghassan bin Jaddo: Mr. Imam Khamenei [may God protect him] said that if this war happens, it will be regional. As a soldier, a naval admiral, as well as a political strategist and political advisor to the Leader of the Revolution, what do you mean by a regional war in terms of form and content? Will it spread and engulf the entire region? Does it mean that all regions will be targeted? Does it mean that the allies will also jump into it?
Admiral Shamkhani: If you see two basic points in this conflict, as stated, then I would like to emphasize these two points: The current situation - the limited conflict of war and the transformation of the conflict into a full-scale war, which encompasses a vast geographical area far beyond the borders of the Islamic Republic of Iran, and the reason for this is two basic factors: The first factor is the enemy's military deployment. If you look at the enemy's extensive deployment and deployment in the region, if you examine it on a military map, you will see that this deployment and deployment is around the most remote point of the region from which threats against the Islamic Republic of Iran come.
But if we want to limit our deterrence and response to our own territory, it is militarily impossible. This is the first point. The second point is that, in the 12-day war of June, we have learned that the policy of restraint and patience was not in our interest. This has been proven by three basic issues. These are the things that will ultimately lead to their defeat and prevent them from achieving all their goals.
Iran will not repeat its policy of restraint in the 12-day war
Ghassan Ben Jaddo: Almost all Gulf and Arab countries have expressed their opposition or disapproval of a war in the region. Perhaps their position is not necessarily in favor of Iran, but in favor of the region.
Live to amaze
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر انقلاب کے مشیرر ایڈمرل علی شمخانی نے لبنان کے ٹی وی چینل المیادین کے ڈائریکٹر غسان بن جدو کے ساتھ اپنے تازہ ترین انٹرویو میں فوجی وردی زیب تن کرکے، شرکت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایران ممکنہ جنگ کے لئے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو ایران یقیناً "اسرائیل" پر حملہ کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ تہران دو شرائط پر امریکہ سے مذاکرات کے لئے تیار ہے اور اگر دھمکیوں سے پاک مفاہمت کا ماحول پیدا ہو تو جوہری معاملے پر مفاہمت ممکن ہے۔
انھوں نے جوہری معاملے کے علاوہ کسی دوسرے موضوع پر مذاکرات کے امکان کو بالکل اور قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ اس موضوع پر بھی مذاکرات دو شرائط سے مشروط ہیں۔
انھوں نے افزودہ یورینیم کی بیرون ملک منتقلی کی کوئی وجہ نہیں ہے اور مفاہمت کی ایک اہم بنیاد "ایٹمی ہتھیاروں کی ممانعت کے بارے میں رہبر معظم فتویٰ" ہے۔
حصۂ دوئم:
غسان بن جدو: لیکن کوئی حل تو نکالا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، روسی طیارے آ کر یورینیم جمع کر سکتے ہیں اور وہاں ذخیرہ کر سکتے ہیں؟
ایڈمرل شمخانی: ہم اس خیال کو آگے بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
ہم نہیں جانتے کہ کتنا افزودہ یورینیم باقی ہے
غسان بن جدو: امریکہ دھمکیوں کی حالت میں ہے اور ایران بے خوفی کا اعلان کر رہا ہے، اور ساتھ ہی کہہ رہا ہے کہ جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے لئے بھی تیار ہے! تو کیا اس صورت حال میں ماکرات کا امکان ہے؟
ایڈمرل شمخانی: ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ کتنا افزودہ یورینیم باقی بچا ہے، کیونکہ یہ ذخائر ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور اس کے بذات خود خطرناک ہیں چنانچہ ہم نے اب تک اسے ہٹانے کی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ بنیادی طور پر، ہم باقی ماندہ افزودہ یورینیم کی مقدار کا تعین نہیں کر سکتے۔ لہٰذا، ہم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ اس مقدار کے محفوظ اور خطرے سے پاک تخمینے کا راستہ تلاش کرنے کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں۔
تاہم، اسلامی جمہوریہ ایران کا بنیادی یقین یہ ہے کہ: 60 فیصد افزودہ یورینیم، ـ محض ہمارے دشمنوں کے ـ اسلامی جمہوریہ کے خلاف ـ منصوبوں اور سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہے اور دوسری بات یہ کہ، مذاکرات اور گفتگو کی تیاری کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا، اس شعبے میں مذاکرات کا امکان موجود ہے۔ جیسا کہ میں نے رہبر معظم کے فتویٰ کے بارے میں وضاحت کی، آپ کی تشویش دور کرنے کا سب سے آسان اور محفوظ ترین راستہ ہے۔ ملک کے اندر، ہم نگرانی کے تحت، تیز اور خطرے سے باہر، اقدامات کر سکتے ہیں۔
غسان بن جدو: ترکیہ میں کچھ ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے ہیں کیا امریکی فریق سے براہ راست ملاقات کا امکان بھی ہے؟
ایڈمرل شمخانی: جی ہاں۔ "براہ راست یا بالواسطہ"؛ ہمارے پاس ملاقاتوں اور مذاکرات کا ایک سلسلہ ہے اور اگر مذاکرات ان شرائط کے ساتھ شروع ہوں جو میں نے بتا دیں، اور دو اہم شرائط، یعنی دھمکیوں سے اجتناب اور غیر منطقی مطالبات سے پرہیز؛ تو فطری طور پر اس کا امکان موجود ہے۔
غسان بن جدو: براہ راست یا بالواسطہ؟
ایڈمرل شمخانی: بالواسطہ مذاکرات میں ہم دیکھیں گے کہ ماحول کیسا ہے اور آیا مفاہمت کا ماحول موجود ہے یا نہیں؟ اگر یہ ماحول بن گیا تو بہت جلد، صورت حال بالواسطہ سے براہ راست مذاکرات میں بدل سکتی ہے۔
مذاکرات صرف جوہری مسئلے کے بارے میں
غسان بن جدو: تو مذاکرات بالواسطہ ہوں گے؛ اگر مطلوبہ نتیجہ حاصل ہؤا تو آپ براہ راست مذاکرات کی طرف چلے جائیں گے۔ امید ہے کہ براہ راست مذاکرات عملی نتائج اور سنجیدہ معاہدے تک پہنچیں گے۔ کیا یہ معاہدہ غیر جوہری مسائل کا احاطہ کر سکتا ہے؟
ایڈمرل شمخانی: ہرگز نہیں، صرف جوہری مسئلہ۔
غسان بن جدو: جناب خامنہ ای نے کل ایک بہت اہم بات کہی...
ایڈمرل شمخانی: مذاکرات کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ صرف جوہری مسئلے تک محدود رہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعلانیہ اظہار کیا کہ بحث کا مرکزی موضوع "جوہری مسئلہ" ہے۔
علاقائی جنگ کیسی ہوگی؟
غسان بن جدو: جناب امام خامنہ ای [حفظہ اللہ] نے کہا کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو علاقائی ہوگی۔ آپ بطور ایک فوجی، بحریہ کے ایڈمرل اور نیز بطور سیاسی اسٹراٹیجسٹ اور رہبر انقلاب کے سیاسی مشیر، شکل و مواد کے لحاظ سے علاقائی جنگ سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ پھیلے گی اور پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ تمام علاقے نشانہ بنیں گے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ اتحادی بھی اس میں کود پڑیں گے؟
ایڈمرل شمخانی: اگر آپ اس تصادم میں دو بنیادی نکات دیکھتے ہیں، جیسا کہ بیان کیا گیا، تو میں ان دو نکات پر زور دینا چاہتا ہوں: موجودہ صورت حال - جنگ کا محدود تصادم و تنازع کا پورے پیمانے پر جنگ بدل جانا، جو وسیع جغرافیائی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اسلامی جمہوریہ ایران کی حدود سے بہت آگے تک اور اس کی وجہ دو بنیادی عوامل ہیں: پہلا عامل، دشمن کی فوجی تعیناتی ہے۔ اگر آپ خطے میں دشمن کی وسیع تعیناتی اور مورچہ بندی کو دیکھیں، اگر آپ اسے فوجی نقشے پر پرکھیں، تو آپ دیکھیں گے کہ یہ تعیناتی اور مورچہ بندی اس خطے کے گرد اس دور افتادہ ترین نقطے تک پر مشتمل ہے جہاں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دھمکیاں آتی ہیں۔
لیکن اگر ہم اپنی تسدید (Deterrence) اور ردعمل کو اپنی سرزمین تک محدود رکھنا چاہیں، تو یہ فوجی لحاظ سے ناممکن ہے۔ یہ پہلا نکتہ ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ، ہم نے سیکھا ہے کہ جون کی 12 روزہ جنگ میں ضبطِ نفس کرنا اور صبر و تحمل سے کام لینے کی پالیسی ہمارے فائدے میں نہیں تھی۔ یہ بات تین بنیادی مسائل سے ثابت ہوئی ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو بالآخر ان کی شکست کا باعث بنیں گی اور انہیں اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کرنے دیں گی۔
ایران 12 روزہ جنگ میں اپنی ضبطِ نفس کی پالیسی کو نہیں دہرائے گا
غسان بن جدو: تقریباً تمام خلیجی اور عرب ممالک خطے میں جنگ کے وقوع پذیر ہونے کے خلاف اپنی مخالفت یا عدم رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں۔ شاید ان کا یہ موقف ضرورتاً ایران کے حق میں نہ ہو بلکہ خطے کے حق میں ہو؛ لیکن فرض کریں کہ جنگ ہو جاتی ہے اور خطے میں فوجی اڈے موجود ہیں۔ تو جناب آپ کیا کریں گے؟ جی ہاں، آپ نے مجھے کسی حد تک جواب دے دیا، لیکن کیا آپ واضح طور پر خطے کے تمام امریکی اڈوں پر حملہ کریں گے؛ نہ صرف خلیج فارس میں، بلکہ ایران کے شمال میں بھی، مثلاً آذربائیجان میں؟
ایڈمرل شمخانی: "جی ہاں، بہت سے ممالک نے بیانات جاری کئے اور سب سے پہلے اپنی سرزمین سے ممکنہ خطرات روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اعلان کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو اسلامی جمہوریہ پر حملہ کرنے کے لئے استعمال ہونے نہیں دیں گے۔ البتہ، گذشتہ سال جون کی جنگ میں، ہم نے یہ بات دیکھی اور ہمارے پاس درست معلومات اور اعدادوشمار موجود ہیں کہ آپ جن کچھ علاقوں کا ذکر کر رہے ہیں، ان میں سے عملاً ہمیں خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لہٰذا، ہم صبر و تحمل اور ضبطِ نفس کا یہ سلسلہ دہرانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور ہم نے خطے میں کچھ کو اطلاع دے دی ہے کہ ہم اپنا ہاتھ روکیں گے نہیں اور ہم دستاویزی طور پر دوسروں کو بھی اطلاع دینا چاہتے ہیں۔ لہٰذا، اسی وجہ سے، خطے کے ممالک کی جنگ کو روکنے کی خواہش ایک ایسی چیز ہے جسے ہم مخلصانہ کوششیں سمجھتے ہیں اور ہم سب کو خطے میں اس واقعے اور تباہی کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ وہ جو جنگ شروع کرنا چاہے، وہ امریکہ نہ ہو!"
اگر امریکہ حملہ کرے گا تو ایران یقیناً "اسرائیل" کو مارے گا؟
غسان بن جدو: جناب امیرالبحر! ہر کوئی ہمیشہ "اسرائیل" کے بارے میں بات کرتا ہے، چاہے اس جنگ میں اس کے کردار کے بارے میں ہو یا اس کے سامنے آنے والے خطرے کے بارے میں۔ تاہم، آپ کے چند دن پہلے کے اس بیان نے ـ کہ 'اگر ہم پر حملہ ہؤا تو ہم "اسرائیل" پر براہ راست حملہ کریں گے'، ـ واقعی میڈیا، سیاست دانوں اور فوجی اہلکاروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور انہوں نے واقعی اسے سنجیدہ لیا ہے۔ لہٰذا، سوال یہ ہے کہ اگر ایران پر امریکی حملہ ہؤا تو کیا وہ "اسرائیل" سے انتقام لے گا؟
ایڈمرل شمخانی: ہم اہداف اور فلسفوں کی ایک دوسرے سے علیحدگی کو سامنے نہیں رکھتے۔ علیحدگی کے لئے کوئی دفتر نہیں ہے۔ "اسرائیل" اور امریکہ دو مختلف وجود نہیں ہیں؛ وہ ایک ہی ہیں۔
7 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Live to amaze
International Ahlul Bayt (AS) News Agency - ABNA || Advisor to the Leader of the Revolution, Admiral Ali Shamkhani, participated in his latest interview with Ghassan Ben Jaddo, director of the Lebanese TV channel Al-Mayadeen, wearing a military uniform.
He said that Iran is fully prepared for a possible war and that if the US attacks, Iran will definitely attack "Israel".
He said that Tehran is ready for negotiations with the US on two conditions and that if an atmosphere of understanding free of threats is created, then an understanding on the nuclear issue is possible.
He completely and categorically rejected the possibility of negotiations on any issue other than the nuclear issue, emphasizing that negotiations on this issue are also subject to two conditions.
He said that there is no reason for the transfer of enriched uranium abroad and that an important basis for the understanding is the "Fatwa of the Supreme Leader on the Prohibition of Nuclear Weapons".
Part 2:
Ghassan Ben Jaddo: But a solution can be found. For example, could Russian planes come and collect uranium and store it there?
Admiral Shamkhani: We have no intention of pursuing this idea.
We do not know how much enriched uranium is left
Ghassan Ben Jaddo: The US is in a state of threats and Iran is declaring its insecurity, and at the same time saying that it is ready for negotiations about the nuclear program! So is there a possibility of a coup in this situation?
Admiral Shamkhani: We do not even know how much enriched uranium is left, because these deposits are buried under the rubble and are dangerous in themselves, so we have not taken any action to remove them yet. Basically, we cannot determine the amount of enriched uranium remaining. Therefore, we are negotiating with the International Atomic Energy Agency to find a way to estimate this amount safely and without risk.
However, the fundamental belief of the Islamic Republic of Iran is that: 60 percent enriched uranium is only to counter the plans and conspiracies of our enemies against the Islamic Republic, and secondly, as a means of preparing for negotiations and talks. Therefore, there is a possibility of negotiations in this area. As I explained about the Supreme Leader's fatwa, it is the easiest and safest way to address your concerns. Inside the country, we can take measures under supervision, quickly and without risk.
Ghassan Ben Jaddo: There have been some meetings and negotiations in Turkey. Is there a possibility of a direct meeting with the American side?
Admiral Shamkhani: Yes. "Directly or indirectly"; We have a series of meetings and negotiations, and if the negotiations start with the conditions that I have outlined, and two important conditions, namely avoiding threats and illogical demands; then naturally there is a possibility of this.
Ghassan bin Jaddo: Direct or indirect?
Admiral Shamkhani: In indirect negotiations, we will see what the atmosphere is like and whether there is an atmosphere of understanding or not? If this atmosphere is created, then very soon, the situation can change from indirect to direct negotiations.
Negotiations only on the nuclear issue
Ghassan bin Jaddo: So the negotiations will be indirect; if the desired result is achieved, you will move to direct negotiations. Hopefully, direct negotiations will lead to practical results and a serious agreement. Can this agreement cover non-nuclear issues?
Admiral Shamkhani: Absolutely not, only the nuclear issue.
Ghassan bin Jaddo: Mr. Khamenei said a very important thing yesterday...
Admiral Shamkhani: One of the conditions for the negotiations is that they should be limited to the nuclear issue. He made it clear that the main topic of the discussion was the "nuclear issue".
What will a regional war be like?
Ghassan bin Jaddo: Mr. Imam Khamenei [may God protect him] said that if this war happens, it will be regional. As a soldier, a naval admiral, as well as a political strategist and political advisor to the Leader of the Revolution, what do you mean by a regional war in terms of form and content? Will it spread and engulf the entire region? Does it mean that all regions will be targeted? Does it mean that the allies will also jump into it?
Admiral Shamkhani: If you see two basic points in this conflict, as stated, then I would like to emphasize these two points: The current situation - the limited conflict of war and the transformation of the conflict into a full-scale war, which encompasses a vast geographical area far beyond the borders of the Islamic Republic of Iran, and the reason for this is two basic factors: The first factor is the enemy's military deployment. If you look at the enemy's extensive deployment and deployment in the region, if you examine it on a military map, you will see that this deployment and deployment is around the most remote point of the region from which threats against the Islamic Republic of Iran come.
But if we want to limit our deterrence and response to our own territory, it is militarily impossible. This is the first point. The second point is that, in the 12-day war of June, we have learned that the policy of restraint and patience was not in our interest. This has been proven by three basic issues. These are the things that will ultimately lead to their defeat and prevent them from achieving all their goals.
Iran will not repeat its policy of restraint in the 12-day war
Ghassan Ben Jaddo: Almost all Gulf and Arab countries have expressed their opposition or disapproval of a war in the region. Perhaps their position is not necessarily in favor of Iran, but in favor of the region.
7 months ago | [YT] | 1
View 0 replies