اللہ تعالٰی نے ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ سمندر کے کنارے جائیں اور قدرت الٰہیہ کا تماشا دیکھیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے مصاحبین کے ساتھ تشریف لے گئے؛مگر انھیں کوئی ایسی شے نظر نہیں آئی ۔ آپ نے ایک جن کو حکم دیا کہ سمندر میں غوطہ لگاکر اندر کی خبر لاؤ ۔ عفریت نے غوطہ لگایا مگر کچھ نہ پایا ، اور واپس آکر عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں نے غوطہ لگایا مگر سمندر کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا، اور نہ کوئی شے دیکھی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے قوی جن کو غوطہ خوری کا حکم فرمایا: مگر وہ بھی نامراد واپس آیا، اگرچے یہ اس سے دوگنی مسافت تک اندر گیا تھاـ اب آپ نے اپنے وزیر آصف بن برخیا کو سمندر میں اُترنے کا حکم دیاـ انہوں نے تھوڑی دیر میں ایک سفید کافوری قبہ لاکر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کیا، جس میں چار دروازے تھے۔ ایک دروازہ موتی کا، دوسرا یاقوت کا، تیسرا ہیرے کا، اور چوتھا زمرد کاـ چاروں دروازے کھلے ہونے کے باوجود اندر سمندر کے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں داخل ہوا تھا؛ حالانکہ قبہ سمندر کی تہہ میں تھاـ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملاحظہ فرمایا کہ اس کے اندر ایک خوبصورت نوجوان صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے نماز میں مشغول ہےـ آپ قبہ کے اندر تشریف لے گئے، اور اس سے سلام کرکے دریافت فرمایا کہ اس سمندر کی تہہ میں تم کیسے پہنچ گئے؟ اس نے جواب دیا:
اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ معذور تھے اور میری ماں نابینا تھیں، میں نے ان دونوں کی ستر سال تک خدمت کی۔ میری ماں کا جب انتقال ہونے لگا تو اس نے دعا کی: خداوندا : اپنی طاعت میں میرے فرزند کو عمر دراز عطا فرماـ اسی طرح جب میرے باپ کا وصال ہونے لگا تو انہوں نے دعا کی: پروردگار میرے بیٹے کو ایسی جگہ عبادت میں لگا جہاں شیطان دخل نہ ہوسکےـ میں اپنے والد کو دفن کر کے جب اس ساحل پر آیا تو مجھے یہ قبہ نظر آیا۔ اس کی خوبصورتی کا مشاہدہ کرنے کے لیے میں اس کے اندر چلا گیا، اتنے میں ایک فرشتہ وارد ہوا، اور اس نے قبہ کو سمندر کی تہہ میں اُتار دیاـ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے دریافت کیا: تم کس زمانے میں یہاں آئے؟ نوجوان نے جواب دیا: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جان لیا کہ اسے دو ہزار سال ہوگئے ہیں؛ مگر وہ اب تک بالکل جوان ہے، اور اس کا بال بھی سفید نہیں ہوا ہےـ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: تم وہاں کھاتے کیا ہو ؟ نوجوان نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی!ایک سبز پرندہ روزانہ اپنی چونچ میں سر برابر کی ایک زرد چیز لے کر آتا ہے میں اسے کھا لیتا ہوں، اور اس میں دنیا کی تمام نعمتوں کا لطف ہوتا ہے۔ اس سے میری بھوک بھی مٹ جاتی ہے اور پیاس بھی رفع ہوجاتی ہےـ اس کے علاوہ گرمی، سردی، نیند، سستی، غنودگی اور نامانوسی ووحشت یہ تمام چیزیں مجھ سے دور رہتی ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اب تم ہمارے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہو یا تمہیں تمہاری جگہ پہنچا دیاجائے؟ نوجوان: حضور! مجھے میری ہی جگہ بھجوا دیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تو انھوں نے قبہ اٹھا کر پھر سمندر کی تہہ میں پہنچا دیاـ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے دیکھو والدین کی دعا کتنی مقبول ہوتی ہے؛ لہٰذا اُن کی نافرمانی سے بچو ۔
📙 (نوجوانوں کی حکایات : کاانسائیکلوپیڈیاصفحہ215/214)۔ *
*"جب دل ٹوٹ جائے، تب رب یاد آتا ہے 💔🕋"* دنیا کی فانی خوشیوں نے بہکا دیا، پر دل کو سکون صرف سجدے میں آیا۔ لوگوں نے دل دکھایا، پر اللہ نے سنبھالا۔ جب سب نے چھوڑ دیا، رب نے گلے لگا لیا۔ آنسو راتوں کو گواہ ہیں، کہ دل نے رب سے کتنی بار فریاد کی۔ یہ زندگی آزمائش ہے، جنت انعام ہے، صبر کرو، شکوہ نہیں۔ اللہ دیکھ رہا ہے، ہر درد، ہر آنسو، بس یقین رکھو، رب بے حد مہربان ہے۔ جو تمہارے لیے بہتر ہے، وہی ملے گا، بس دیر ہے، اندھیر نہیں۔
زمین کا اندرونی نظام… سائنس کا انکشاف یا قیامت کی ایک جھلک؟
ناسا کے ایک ماہر ماحولیات نے حال ہی میں ایک ایسی لرزہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس نے دنیا بھر کے سائنسی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی گہرائیوں میں، تقریباً 200 کلومیٹر نیچے، ایک پراسرار تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ دس سال پہلے تک زمین کے نیچے موجود لاوے کا اوسط حجم 130 کلومیٹر کی گہرائی پر تھا، مگر اب یہ بڑھ کر 160 کلومیٹر تک آ گیا ہے۔ بظاہر یہ صرف ایک سائنسی عدد ہے، لیکن حقیقت میں یہ زمین کے اندر ایک بڑے المیے کی علامت ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین کی پرتیں غیر متوقع حد تک حرکت کر رہی ہیں، جس کے اثرات ہم زلزلوں، آتش فشانی دھماکوں اور سمندری طوفانوں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ زمین کے مرکز میں موجود لاوا اپنی گردش کی سمت بدل رہا ہے، اور اس تبدیلی کے اثرات براہِ راست زمین کے مقناطیسی نظام پر پڑ رہے ہیں۔ سائنس کے مطابق یہ ممکن ہے کہ نارتھ اور ساؤتھ پولز اپنی جگہیں بدل لیں۔ اگر ایسا ہوا تو زمین کا موسم، نظامِ حیات اور انسانوں کی بقا ایک نئے امتحان میں پڑ جائے گی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہی رفتار جاری رہی تو 2030 تک لاوا زمین کی سطح سے صرف 10 کلومیٹر نیچے آ جائے گا، اور اس کے بعد زمین کا درجہ حرارت 65 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں زندگی کا وجود آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب صرف سائنس کی پیشن گوئی ہے؟ یا یہ قرآن و حدیث میں بیان کی گئی اُن نشانیوں میں سے ایک ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گی؟
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
"اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا" (سورۃ الزلزال: 1-2) "جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔"
یہی منظرنامہ ہمیں آج سائنسی رپورٹوں میں دکھائی دے رہا ہے، گویا زمین اپنے اندر کے راز باہر نکالنے کو ہے۔
احادیث میں بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں زلزلوں، زمین کے دھنسنے اور آسمانی و زمینی تبدیلیوں کا ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے۔" (بخاری)
کیا یہ زمین کے اندر لاوے کی حرکت اور قطبین کی تبدیلی انہی نشانیوں کی ایک جھلک ہے؟ سائنس کہتی ہے کہ یہ سب ایک قدرتی عمل ہے، لیکن ایمان کہتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تنبیہ ہے۔
انسان اپنی ترقی اور ٹیکنالوجی پر فخر کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک لمحے میں زمین کی ایک ہلچل سب کچھ ختم کر سکتی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے زمین کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کیا ہم اپنی حرص اور ظلم کے ذریعے خود اپنے انجام کو قریب لا رہے ہیں؟
آخر میں سوال یہ ہے: کیا یہ سب آنے والی قیامت کی تیاری ہے، یا پھر انسانیت کو توبہ اور رجوع کی آخری مہلت دی جا رہی ہے؟
*"One Glance at the Kaaba Can Change Your Heart Forever..."* ❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤ *"In this fast world, we often forget the One who created us. The Kaaba stands not just as a building, but as a symbol of unity, faith, and submission to Allah. Millions of hearts beat with love for this sacred place. It reminds us that no matter where we are, we face one Qibla, one Lord, one purpose. Life is short, time is running. Return to your Lord before it's too late. Don’t chase this world – it will fade. Chase your faith – it will save. The beauty of Islam is not only in rituals, but in peace, kindness, and mercy. Forgive others, seek forgiveness, pray with heart, and live with purpose. When your heart feels empty, remember Allah is near. Cry in Sujood, He listens. Make Dua, He answers. Your tears are not wasted. Every pain you hide, Allah knows. Every prayer you whisper, He hears. Every step you take towards Him, He comes closer. Share this message to spread the light. Someone out there needs this reminder. And maybe, this simple post becomes a reason for someone’s return to Allah. May Allah guide us all. Ameen."*
Islamic content.100k
Jumma Mubarak thank you so much
1 week ago | [YT] | 23
View 0 replies
Islamic content.100k
1 week ago | [YT] | 8
View 0 replies
Islamic content.100k
Allahmudulillah everything like and subscribe Islamic content >< thanks ❤️❤️
🤲🤲🤲❤️❤️❤️🤲🤲🤲❤️❤️❤️🤲🤲🤲
1 week ago | [YT] | 46
View 0 replies
Islamic content.100k
1 month ago | [YT] | 15
View 0 replies
Islamic content.100k
ذکر کرنے ولا زندہ ہے نہ ذکر کرنے کی مثال مردہ!
ذکرِ الٰہی کرنے والے حوشی حوشی جنت جائے گا
یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے
2 months ago | [YT] | 9
View 0 replies
Islamic content.100k
*🖋🌹💠 سبــق آمـوز کہــانی 💠🌹🖋*
*👈 والـدیـن کـے دعــاء کـی کـرامـت __!!*
اللہ تعالٰی نے ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ سمندر کے کنارے جائیں اور قدرت الٰہیہ کا تماشا دیکھیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے مصاحبین کے ساتھ تشریف لے گئے؛مگر انھیں کوئی ایسی شے نظر نہیں آئی ۔ آپ نے ایک جن کو حکم دیا کہ سمندر میں غوطہ لگاکر اندر کی خبر لاؤ ۔ عفریت نے غوطہ لگایا مگر کچھ نہ پایا ، اور واپس آکر عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں نے غوطہ لگایا مگر سمندر کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا، اور نہ کوئی شے دیکھی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے قوی جن کو غوطہ خوری کا حکم فرمایا: مگر وہ بھی نامراد واپس آیا، اگرچے یہ اس سے دوگنی مسافت تک اندر گیا تھاـ اب آپ نے اپنے وزیر آصف بن برخیا کو سمندر میں اُترنے کا حکم دیاـ
انہوں نے تھوڑی دیر میں ایک سفید کافوری قبہ لاکر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کیا، جس میں چار دروازے تھے۔ ایک دروازہ موتی کا، دوسرا یاقوت کا، تیسرا ہیرے کا، اور چوتھا زمرد کاـ چاروں دروازے کھلے ہونے کے باوجود اندر سمندر کے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں داخل ہوا تھا؛ حالانکہ قبہ سمندر کی تہہ میں تھاـ
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملاحظہ فرمایا کہ اس کے اندر ایک خوبصورت نوجوان صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے نماز میں مشغول ہےـ آپ قبہ کے اندر تشریف لے گئے، اور اس سے سلام کرکے دریافت فرمایا کہ اس سمندر کی تہہ میں تم کیسے پہنچ گئے؟ اس نے جواب دیا:
اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ معذور تھے اور میری ماں نابینا تھیں، میں نے ان دونوں کی ستر سال تک خدمت کی۔ میری ماں کا جب انتقال ہونے لگا تو اس نے دعا کی: خداوندا : اپنی طاعت میں میرے فرزند کو عمر دراز عطا فرماـ
اسی طرح جب میرے باپ کا وصال ہونے لگا تو انہوں نے دعا کی: پروردگار میرے بیٹے کو ایسی جگہ عبادت میں لگا جہاں شیطان دخل نہ ہوسکےـ میں اپنے والد کو دفن کر کے جب اس ساحل پر آیا تو مجھے یہ قبہ نظر آیا۔ اس کی خوبصورتی کا مشاہدہ کرنے کے لیے میں اس کے اندر چلا گیا، اتنے میں ایک فرشتہ وارد ہوا، اور اس نے قبہ کو سمندر کی تہہ میں اُتار دیاـ
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے دریافت کیا: تم کس زمانے میں یہاں آئے؟
نوجوان نے جواب دیا: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے جان لیا کہ اسے دو ہزار سال ہوگئے ہیں؛ مگر وہ اب تک بالکل جوان ہے، اور اس کا بال بھی سفید نہیں ہوا ہےـ
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: تم وہاں کھاتے کیا ہو ؟
نوجوان نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی!ایک سبز پرندہ روزانہ اپنی چونچ میں سر برابر کی ایک زرد چیز لے کر آتا ہے میں اسے کھا لیتا ہوں، اور اس میں دنیا کی تمام نعمتوں کا لطف ہوتا ہے۔ اس سے میری بھوک بھی مٹ جاتی ہے اور پیاس بھی رفع ہوجاتی ہےـ اس کے علاوہ گرمی، سردی، نیند، سستی، غنودگی اور نامانوسی ووحشت یہ تمام چیزیں مجھ سے دور رہتی ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اب تم ہمارے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہو یا تمہیں تمہاری جگہ پہنچا دیاجائے؟
نوجوان: حضور! مجھے میری ہی جگہ بھجوا دیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تو انھوں نے قبہ اٹھا کر پھر سمندر کی تہہ میں پہنچا دیاـ
اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا:
اللہ تم پر رحم کرے دیکھو والدین کی دعا کتنی مقبول ہوتی ہے؛ لہٰذا اُن کی نافرمانی سے بچو ۔
📙 (نوجوانوں کی حکایات : کاانسائیکلوپیڈیاصفحہ215/214)۔
*
5 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Islamic content.100k
*"جب دل ٹوٹ جائے، تب رب یاد آتا ہے 💔🕋"*
دنیا کی فانی خوشیوں نے بہکا دیا،
پر دل کو سکون صرف سجدے میں آیا۔
لوگوں نے دل دکھایا، پر اللہ نے سنبھالا۔
جب سب نے چھوڑ دیا، رب نے گلے لگا لیا۔
آنسو راتوں کو گواہ ہیں،
کہ دل نے رب سے کتنی بار فریاد کی۔
یہ زندگی آزمائش ہے، جنت انعام ہے،
صبر کرو، شکوہ نہیں۔
اللہ دیکھ رہا ہے، ہر درد، ہر آنسو،
بس یقین رکھو، رب بے حد مہربان ہے۔
جو تمہارے لیے بہتر ہے، وہی ملے گا،
بس دیر ہے، اندھیر نہیں۔
5 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
Islamic content.100k
زمین کا اندرونی نظام… سائنس کا انکشاف یا قیامت کی ایک جھلک؟
ناسا کے ایک ماہر ماحولیات نے حال ہی میں ایک ایسی لرزہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس نے دنیا بھر کے سائنسی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی گہرائیوں میں، تقریباً 200 کلومیٹر نیچے، ایک پراسرار تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ دس سال پہلے تک زمین کے نیچے موجود لاوے کا اوسط حجم 130 کلومیٹر کی گہرائی پر تھا، مگر اب یہ بڑھ کر 160 کلومیٹر تک آ گیا ہے۔ بظاہر یہ صرف ایک سائنسی عدد ہے، لیکن حقیقت میں یہ زمین کے اندر ایک بڑے المیے کی علامت ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین کی پرتیں غیر متوقع حد تک حرکت کر رہی ہیں، جس کے اثرات ہم زلزلوں، آتش فشانی دھماکوں اور سمندری طوفانوں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ زمین کے مرکز میں موجود لاوا اپنی گردش کی سمت بدل رہا ہے، اور اس تبدیلی کے اثرات براہِ راست زمین کے مقناطیسی نظام پر پڑ رہے ہیں۔ سائنس کے مطابق یہ ممکن ہے کہ نارتھ اور ساؤتھ پولز اپنی جگہیں بدل لیں۔ اگر ایسا ہوا تو زمین کا موسم، نظامِ حیات اور انسانوں کی بقا ایک نئے امتحان میں پڑ جائے گی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہی رفتار جاری رہی تو 2030 تک لاوا زمین کی سطح سے صرف 10 کلومیٹر نیچے آ جائے گا، اور اس کے بعد زمین کا درجہ حرارت 65 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں زندگی کا وجود آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب صرف سائنس کی پیشن گوئی ہے؟ یا یہ قرآن و حدیث میں بیان کی گئی اُن نشانیوں میں سے ایک ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گی؟
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
"اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۙ وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا"
(سورۃ الزلزال: 1-2)
"جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔"
یہی منظرنامہ ہمیں آج سائنسی رپورٹوں میں دکھائی دے رہا ہے، گویا زمین اپنے اندر کے راز باہر نکالنے کو ہے۔
احادیث میں بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں زلزلوں، زمین کے دھنسنے اور آسمانی و زمینی تبدیلیوں کا ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے۔" (بخاری)
کیا یہ زمین کے اندر لاوے کی حرکت اور قطبین کی تبدیلی انہی نشانیوں کی ایک جھلک ہے؟
سائنس کہتی ہے کہ یہ سب ایک قدرتی عمل ہے، لیکن ایمان کہتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تنبیہ ہے۔
انسان اپنی ترقی اور ٹیکنالوجی پر فخر کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک لمحے میں زمین کی ایک ہلچل سب کچھ ختم کر سکتی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے زمین کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کیا ہم اپنی حرص اور ظلم کے ذریعے خود اپنے انجام کو قریب لا رہے ہیں؟
آخر میں سوال یہ ہے:
کیا یہ سب آنے والی قیامت کی تیاری ہے، یا پھر انسانیت کو توبہ اور رجوع کی آخری مہلت دی جا رہی ہے؟
#urdu #news #endofworld #globalwarming #earth
5 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
Islamic content.100k
ہر دھڑکن کہتی ہے، کاش ایک لمحہ نصیب ہو، روزہ رسول ﷺ کے سامنے آنکھوں سے سلام کہہ سکوں۔
6 months ago | [YT] | 14
View 0 replies
Islamic content.100k
*"One Glance at the Kaaba Can Change Your Heart Forever..."*
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
*"In this fast world, we often forget the One who created us. The Kaaba stands not just as a building, but as a symbol of unity, faith, and submission to Allah. Millions of hearts beat with love for this sacred place. It reminds us that no matter where we are, we face one Qibla, one Lord, one purpose. Life is short, time is running. Return to your Lord before it's too late. Don’t chase this world – it will fade. Chase your faith – it will save. The beauty of Islam is not only in rituals, but in peace, kindness, and mercy. Forgive others, seek forgiveness, pray with heart, and live with purpose. When your heart feels empty, remember Allah is near. Cry in Sujood, He listens. Make Dua, He answers. Your tears are not wasted. Every pain you hide, Allah knows. Every prayer you whisper, He hears. Every step you take towards Him, He comes closer. Share this message to spread the light. Someone out there needs this reminder. And maybe, this simple post becomes a reason for someone’s return to Allah. May Allah guide us all. Ameen."*
6 months ago | [YT] | 8
View 0 replies
Load more